حضرت اقدس مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل مکتوب خادم الحرمین الشریفین بادشاہ سلطنت سعودی عرب عبداللہ بن عبدالعزیز السعود کو 28 ؍ مارچ 2012ء کو تحریر فرمایا تھا جو کہ بدر کے جلسہ سالانہ نمبر میں قارئین کے استفادہ کے لئے پیش کیا جارہا ہے:
عزت مآب
خادم الحرمین الشریفین
بادشاہ سلطنت سعودی عرب
عبداللہ بن عبدالعزیز السعود۔
ریاض سعودی عرب
عزت مآب جناب شاہ عبداللہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج ایک بہت ہی اہم معاملہ کے حوالہ سے میں آپ کو یہ خط تحریر کررہا ہوں کیونکہ حرمین شریفین کے خادم اورسعودی عرب کا بادشاہ ہونے کی حیثیت سے اُمّتِ مسلمہ میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔ آپ کے ملک میں اسلام کے دو مقدس مقامات مکۃ المکرّمہ اور مدینۃ المنوّرہ واقع ہیں جن سے محبت کرنا ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ یہ مقامات رُوحانی ترقّی کا مرکز بھی ہیں اورمسلمانوں کے لیے مقدّس بھی۔
چنانچہ تمام مسلمانوں اورمسلمان حکومتوں کی نظر میں آپ کاایک خاص مقام ہے جو آپ پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ اُمّتِ مسلمہ کی درست راہنمائی کریں اور مسلمان ممالک کے مابین امن اور ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ نیز یہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت اور ہمدردی کااحساس پیدا کریں اور انہیں رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ کی رُوح سے رُوشناس کروائیں۔ اِس طرح تمام بنی نوع انسان کی بھلائی کی خاطر آپ کو ساری دنیا میں قیام امن کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ جماعت احمدیہ مسلمہ کے سربراہ اورمسیح موعود و امام مہدی علیہ السلام کے خلیفہ کی حیثیت سے میری آپ سے درخواست ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ اور اسلام کے باقی فرقوں کے درمیان بعض اعتقادی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں دنیا میں قیام امن کی کوششوں کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔ ہمیں دنیا کو اسلام کی سچی تعلیم جومحبت اور امن پر مبنی ہے سے آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا کرکے ہم وہ غلط فہمیاں جو عام طور پر اہل مغرب اور باقی دنیا کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف راسخ ہوچکی ہیں دُور کرسکتے ہیں۔ دوسری قوموں یا لوگوں سے دشمنی ہمیں انصاف پر عمل پیرا ہونے سے روکنے والی نہ ہو۔ خداتعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ المائدہ آیت 3 میں فرماتا ہے۔
’’ اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘
یہ وہ راہنما اُصول ہے جو ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے تا کہ ہم اسلام کاخوبصوت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوسکیں۔ تمام دُنیا کے مسلمانوں کے لیے دلی محبت اور گہری ہمدردی کے جذبات کے ساتھ مَیں آپ سے گزارش کررہا ہوں کہ آپ اس معاملہ میں اپنا کردار اَدا کریں۔
آج کل دنیا میں کچھ سیاست دان اورنام نہاد سکالر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بدنام کرنے کے لیے اسلام کے خلاف نفرت کے بیج ہورہے ہیں۔ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے وہ قرآن کریم کی تعلیمات کو بالکل ہی توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔ مزید یہ کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین تنازعہ گزرتے ہوئے ہر دن کے ساتھ بگڑ رہا ہے اور اسرائیل اور ایران کے درمیان عداوت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کے تعلقات بری طرح خراب ہوچکے ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ اُمت مسلمہ کا انتہائی اہم راہنماہونے کے ناطہ آپ ان تنازعات کو انصاف او رعدل سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ جہاں بھی اور جب بھی اسلام کے خلاف نفرت سر اٹھاتی ہے جماعت احمدیہ مسلمہ اس نفرت کو دور کرنے کے لیے جو کچھ کرسکتی ہے کرتی ہے لیکن جب تک تمام اُمت مسلمہ متحد نہ ہوجائے اور اس کے حصول کی کوشش نہ کرے امن قائم نہیں ہوسکتا۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی بھرپور کوشش کریں۔ اگر تیسری عالمی جنگ واقعی مقدر ہے تو کم از کم ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی ابتدا کسی مسلم ملک کی طرف سے نہ ہو۔ کوئی بھی مسلم ملک یا فرد واحد جو دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہو آج یا آئندہ کبھی بھی ایک ایسی عالمی تباہی کا موجب بننا پسند نہیں کرے گا جس کے خوف ناک اثرات کی وجہ سے آئندہ نسلیں معذور اور لُولی لنگڑی پیدا ہوں کیونکہ اب اگر ایک عالمی جنگ شروع ہوئی تو یہ یقیناً ایٹمی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی۔ ہم پہلے ہی جاپان کے دو شہروں پر ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کا نظارہ کرچکے ہیں۔
پس اے سعودی عرب کے بادشاہ! دُنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنی تمام تر طاقت اور اثر و رسوخ صرف کردیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین۔ آپ کے لیے اور تمام مسلم اُمّت کے لیے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا کے ساتھ۔
آپ کا خیر خواہ
مرزا مسرور احمد
خلیفۃ المسیح الخامس
امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر
28-03-2012
(بحوالہ عالمی بحران اورامن کی راہ صفحہ 195-193)