اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

قرآن کریم، محبت، پیار، امن اور مصالحت کی تعلیم دیتا ہے اگر کسی چرچ یا کسی اورعبادت گاہ کو حفاظت کی ضرورت پڑی تو وہ ہمیں شانہ بشانہ پائیں گے اگر وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار پھٹ جائیں تو آئندہ نسلیں اس غلطی پر ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی ... کہ ... ہم نے انہیں معذوری اور اپاہج پن تحفہ میں دیا ہے آپ دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتے ہیں اس لئے آپ باقی دنیا کو بھی آگاہ کریں ... کہ ... خدا کے قائم کردہ قدرتی توازن اور ہم آہنگی میں رکاوٹ بن کر وہ بہت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں ................................................................................................... مسیحیوں کے عالمی روحانی لیڈر پوپ صاحب کو حضرت امام جماعت احمدیہ عالمگیر کا فکر انگیز مراسلہ ...................................................................................................

عالمگیر جماعت احمدیہ کے موجودہ امام سیّدنا حضرت اقدس مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی دنیا کو عالمی تباہی و بربادی سے بچانے کی فکر میں ہیں۔ اس کے لئے آپ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے ایوانوں میں مستقبل کے خوفناک خطرات کے حوالہ سے مسلسل فکرو درد سے بھرپور اپنی روحانی آواز بلند کرتے جارہے ہیں۔ عالمی لیڈروں کو سنہری اسلامی تعلیمات سے مزین اپنے خطوط کے ذریعہ توجہ دلا رہے ہیں کہ آنے والے خوفناک دنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنے اپنے دائرہ میں امن عالم کی کوششوں کو تیز کریں۔
آپ نے یہ خطابات برطانوی پارلیمنٹ میں، ملٹری ہیڈ کوارٹر جرمنی میں، کیپٹل ہل واشنگٹن۔ ڈی. سی امریکہ میں، یورپین پارلیمنٹ میں، نیوزی لینڈ نیشنل پارلیمنٹ میں، ڈچ نیشنل پارلیمنٹ میں ارشاد فرمائے نیز بہت سی امن کانفرنسوں میں اپنے بصیرت افروز خطابات ارشاد فرمائے ہیں۔ مزید یہ کہ بہت سے عالمی راہنماؤں کو امن عالم کے قیام کی طرف بُلاتے ہوئے انہیں خطوط بھی ارسال فرمائے جن میں اسرائیل کے وزیر اعظم، صدر اسلامی جمہوریہ ایران، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ، خادم حرمین شریفین سعودی عرب کے بادشاہ، جمہوریہ چین کے وزیر اعظم، وزیر اعظم برطانیہ، جرمنی کے چانسلر، ملکہ برطانیہ، صدر جمہوریہ فرانس، صدر روسی فیڈریشن اور پوپ بینڈکٹ XVI شامل ہیں۔
ان میں سے جو خط آپ نے 2011 ء میں مسیحیوں کے عالمی روحانی سربراہ پوپ بینڈکٹ XVI کو ارسال فرمایا اس کا مکمل متن ذیل میں قارئین بدر کے استفادہ کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔ اس خط کے مطالعہ سے آپ محسوس کریں گے کہ امام جماعت احمدیہ اُس وقت سے آنے والی عالمی تباہی سے خبردار کرتے چلے آرہے ہیں جب کہ باقی عالمی لیڈر اس کی اہمیت سے نا آشنا تھے اور اسے بے وقت کی آواز سمجھ رہے تھے لیکن آج جب کہ ہم حضور انور کا یہ خط دوبارہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں تو دنیا اس تباہی کو اب اپنے سے بہت قریب محسوس کررہی ہے۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اب بھی اس روحانی آواز کی طرف کان دھرا جائے اور ہر انسان بالخصوص ہر احمدی اپنے اپنے دائرہ میں اس تباہی کے خوفناک اثرات سے تمام انسانوں کو آگاہ کرے اور حضور انور کے الفاظ میں یہ پیغام دیا جائے کہ ’’ بنی نوع انسان اپنے خالق کو پہچانے کہ یہی ایک بات انسانیت کے تحفظ کی ضمانت ہے۔‘‘ (ادارہ)

 

عزت مآب
جناب پوپ بینیڈکٹ xvi
مَیں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا فضل اور رحمتیں نازل فرمائے۔
امام جماعت احمدیہ مسلمہ کی حیثیت سے میں آنجناب پوپ کو قرآن کریم کا درج ذیل پیغام پہنچاتا ہوں:
’’ تُو کہہ دے اے اہلِ کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اورتمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا۔‘‘
آج کل اسلام دنیا کے لیے تختۂ مشق بنا ہوا ہے اور بار بار گھٹیا الزامات کی زد میں آرہا ہے۔ دراصل اسلام کی حقیقی تعلیمات کا مطالعہ کیے بغیر یہ اعتراضات اُٹھائے جارہے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض نام نہاد مسلم تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسلام کوبالکل غلط انداز میں پیش کررہی ہیں جس کے نتیجہ میں مغربی اور غیر مسلم ممالک کے باشندوں کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے بدظنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ بعض انتہائی تعلیم یافتہ لوگ بھی بانیٔ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بودے الزام لگارہے ہیں۔
ہر مذہب کا مقصد بندہ کوخدا کے قریب لانا اور انسانی اقدار کا قیام ہے۔ کسی بھی مذہب کے بانی نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ اس کے پیروکار دوسروں کے حقوق غصب کریں یا ظالمانہ کارروائیاں کریں۔ اس لیے مسلمانوں کی ایک گمراہ اقلیت کی کارروائیوں کو اسلام اوربانیٔ اسلام پر حملہ کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ اسلام ہمیں تمام مذاہب کے بانی انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کاحکم دیتا ہے۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لیے ان تمام انبیاء بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری ہے جن کا بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام بائبل یاقرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجز غلام ہیں۔ لہٰذا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملوں کی وجہ سے
ہمیں سخت تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے لیکن اس کے جواب میں ہم دنیا کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسؤہ حسنہ پیش کرتے چلے جارہے ہیں اورقرآن کریم کی خوبصورت تعلیم پہلے سے بڑھ کردنیا کو دکھا رہے ہیں۔
اگرکوئی شخص کسی تعلیم کی طرف منسوب ہونے کے دعویٰ کے باوجود اس تعلیم پر صحیح طور پر عمل پیرا نہیں ہوتا تو یہ اس فرد کا قصور ہے کہ کہ تعلیم کا۔ لفظ اسلام کا مطلب ہی امن، محبت اورتحفظ ہے۔ ’’ دین میں کوئی جبر نہیں! ‘‘ قرآن کریم کا ایک واضح ارشاد ہے۔ شروع سے آخر تک قرآن کریم محبت، پیار، امن اور مصالحت کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کریم بار بار تاکید کرتا ہے کہ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ اللہ سے بہت دُور ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص اسلام کو شدت پسند، جبر و تشدد اور خونریزی کی تعلیم دینے والا مذہب بنا کر پیش کرتا ہے تو ایسی تصویر کشی کا حقیقی اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
جماعت احمدیہ مسلمہ حقیقی اسلام پر کار بند ہے اورمحض خدا تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے کام کرتی ہے۔ اگر کسی چرچ یا کسی اور عبادت گاہ کو حفاظت کی ضرورت پڑی تو وہ ہمیں اپنے شانہ بہ شانہ پائیں گے۔ اگر ہماری مساجد سے کوئی پیغام گونجے گا تو وہ صرف یہی ہوگا کہ اللہ سب سے بڑا ہے! اللہ سب سے بڑا ہے! اورہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں!
امن علم کوتباہ کرنے میں ایک بڑا عنصر یہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ دانا، تعلیم یافتہ اور آزاد خیال ہیں۔ لہٰذا انہیں بانیانِ مذاہب کی تحقیر اور تذلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ معاشرتی امن کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص دل سے تمام کدورتیں نکال کر برداشت کے معیار کوبڑھائے۔ ایک دوسرے کے انبیاء کی تکریم اور تعظیم کے دفاع میں اُٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ دنیا جس بے چینی اور اضطراب کے دور سے گزر رہی ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پیار اور محبت کی فضا قائم کی جائے۔ ہم اپنے ماحول میں باہمی اخوت اور محبت کےپیغام کو فروغ دیں اور یہ کہ ہم پہلے سے بڑھ کر رَوادری کے ساتھ بہتر انداز میں رہنا سیکھیں اورانسانی اقدار کو مقدم رکھیں۔
دَور حاضر میں دنیا میں چھوٹے پیمانہ پر جنگیں شروع ہوچکی ہیں جبکہ بعض دوسری جگہوں پرعالمی طاقتیں اس بات کی دعویدار ہیں کہ وہ امن کے حصول کے لیے کوشش کررہی ہیں۔ یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ ظاہر میں کچھ اور بتایا جارہا ہے جبکہ باطن میں ان کی حقیقی ترجیحات کچھ اورہیں جن کے لیے در پردہ اورخفیہ منصوبہ بندیوں پرعمل کیاجارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان حالات میں امن عالم قائم ہوسکتا ہے؟
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اگر ہم دنیا کے موجودہ حالات کا غور سے جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایک او رعالمی جنگ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد عدل و انصاف کی راہ اپنائی جاتی تو آج دنیا کی یہ حالت نہ ہوتی جس کی وجہ سے یہ ایک بار پھر آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ متعدد ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کے باعث بغض و عداوت بڑھ رہی ہے اوردُنیا تباہی کے دہانہ پر پہنچ چکی ہے۔ اگر وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے یہ ہتھیار پھٹ جائیں تو آئندہ نسلیں اس غلطی پر ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ ہم نے انہیں معذوری اوراپاہج پن تحفہ میں دیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ دنیا خالق اور اس کی مخلوق کےحقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوجائے۔
میرے نزدیک اس وقت دنیا کی ترقی پر توجہ دینے کی بجائے یہ زیادہ ضروری ہے کہ ہم دنیا کو اس تباہی سے بچانے کے لیے اپنی مساعی تیز کردیں۔ فوری ضرورت اس بات کیہے کہ بنی نوع انسان اپنے خالق کو پہچانیں کیوں کہ صرف یہی ایک بات انسانیت کے تحفظ کی ضمانت ہے ورنہ دنیا بڑی تیزی کےساتھ تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔اگر
آج واقعی انسان قیام امن میںکامیاب ہونا چاہتا ہے تو دوسروں میں نقص تلاش کرنے کی بجائے اسے اپنے نفس کے شیطان پر قابو پانا چاہئے۔اپنی کوتاہیاں اور کمزوریاں دور کرکے انسان کو انصاف کا بہترین نمونہ بننا ہوگا۔ مَیں دنیا کو بار بار توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ایک دوسرے کےساتھ حد سے بڑھی ہوئی عداوتیں اور انسانی اقدار کی پامالی دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔
آپ دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتے ہیں اس لیے میں آپ سے ملتمس ہوں کہ باقی دنیا کو بھی آگاہ کریں کہ خدا کے قائم کردہ قدرتی توازن اور ہم آہنگی کی راہ میں رکاوٹ بن کر وہ بہت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پیغام کو پہلے سے بہت وسیع پیمانے پر اور بہت نمایاں کرکے پھیلانے کی ضرورت ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب کو مذہبی رواداری اور تمام لوگوں کو محبت، پیار اوربھائی چارہ کی رُوح پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
مَیں دعا گو ہوں کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کوسمجھتے ہوئے دنیا کو امن اور پیار کا گہوارہ بنائیں اور اپنے خالق کو پہچاننے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہماری دعا اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تباہی سے بچالے۔
آپ کا خیر خواہ
مرزا مسرور احمد
خلیفۃ المسیح الخامس
امام جماعت احمدیہ مسلمہ عالمگیر
1-10-2011