پیارے قارئین ہفت روزہ بدرقادیان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ کہ اخبار بدرکو’’ قومی یکجہتی کی اہمیت اور برکات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ‘‘کے عنوان سے ایک خصوصی نمبر شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے ۔آمین
مجھ سے اس بارے میں پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میں اس حوالے سے چند باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
اسلام نے مسلمانوں کو باہم مودت و اخوت، یکجہتی اور اتحاد کی تعلیم دی ہے اور آپس میں اختلاف اور تفرقہ سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۔(آل عمران :104) ترجمہ: اور تم سب (کے سب) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور پراگندہ مت ہو۔
اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو ضلالت اور گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔ مَنْ شَذَّ شُذَّ اِلَی النَّارِ ۔جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ گویا آگ میں پھینکا گیا ۔ (ترمذی کتاب الفتن)
یہی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی جماعت کو دی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔ یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔ اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں… اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اس میں یہی تو سر ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے … غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے طیار ہو رہی ہے اُسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہﷺ نے طیار کی تھی۔ اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے۔ اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو، اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔ اطاعت ہو تو ویسی ہو، باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔ غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔‘‘ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 317تا 319)
اسی طرح آپ فرماتے ہیں :
’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا، اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین ِ واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔‘‘ (الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ306تا 307)
پس ہمارا مقصد اور مدعا تو یہی ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے اور آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے وحدت آج صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کا خاصّہ ہے۔ باقی سب انتشار کا شکار ہیں اور رہیں گے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر نہیں کریں گے۔ پس ہم خوش قسمت ہیں کہ خلافت کی برکت سے ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہیں اور کل عالم میں اسلام کا پرچم بلند کرتے چلے جا رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت ایک ہاتھ پر متحد رہے۔ چنانچہ ایم ٹی اے کی جو نعمت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اس نے جماعت میں وحدت اور خلافت سے ایک تعلق کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایم ٹی اے پر جب خلیفہ ٔ وقت کے خطبات جمعہ اور خطابات نشر ہوتے ہیں تو سب دنیا میں پھیلے ہوئے ہر ملک و قوم اور ہر رنگ ونسل کے احمدی نہایت محبت اور عقیدت سے سنتے ہیں اور اپنے ایمان وایقان میں تقویت پاتے ہیں اور وحدت و یگانگت میں ترقی کرتے ہیں۔ پس اسلامی تعلیمات میں قومی یکجہتی کی جو اہمیت اور برکات بیان کی گئی ہیں آج خلافت احمد یہ کے زیر سایہ جماعت احمدیہ اس کی عملی تصویر ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام قارئین کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہو۔ آمین