پیارے احباب جماعت احمدیہ کوسوو،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا بارھواں جلسہ سالانہ 4؍مئی 2025ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے اور آپ سب غیر معمولی برکات حاصل کرنے والے اور ہمارے مذہب اسلام اور ہمارے محبوب رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ہدایات کے متعلق اپنے علم و عرفان کو بڑھانے والے ہوں۔
یاد رکھیں کہ یہ کوئی عام دنیاوی تقریب یا میلہ نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 340،
ایڈیشن 1989ء)
اس لیے آپ کو جلسہ کے مقدس ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے تقویٰ یعنی راستبازی کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے اندر اللہ کا حقیقی خوف پیدا کریں۔ اپنے اندرون کو بہتر کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کریں اور اپنی اخلاقی حالت کو پاک کریں تاکہ آپ ان بلند معیاروں کو پاسکیں جن کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے ممبران سے کی ہے۔
یقیناً یہ جلسہ آپ کے دلوں میں نرمی، شفقت اور عاجزی پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔ یہ جماعت کے اندر پیار اور بھائی چارہ کے رشتوں کو بڑھانے کا ذریعہ ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے میں اور بڑے پیمانے پر انسانیت کی ضروریات کی خدمت کرنے میں آپ کو ایک عمدہ مثال قائم کرنے والا بنانا چاہیے۔ آپ کو اپنے روزمرہ کے طرزعمل اور رویے میں عاجزی اور نرمی پیدا کرنی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ اسلام کی خدمت کا شوق اور جذبہ پیدا کریں اور ہمارے خالق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں۔
اس حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو مَیں ابتدا سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ اُن تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہیے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔ اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہوکر زمین پر چلو۔ اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگذر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو… خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔‘‘
(اشتہار 29؍مئی1898ء،
مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ434)
اس لیے ہر احمدی کو عہد کرنا چاہیے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے بابرکت مشن کو پورا کرنے کے لیے انتھک کوشش کرے گا۔ (اس مشن میں )پہلی چیز تمام انسانیت کو ہمارے خالق، یعنی اس خدا ئے واحد کی پہچان کروانا اور اس کی عبادت کی طرف مائل کرنا ہے۔ دوسری چیز حقوق العباد ادا کرنا ہے تا کہ دنیا میں امن اور ہم آہنگی قائم ہوسکے۔
میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں اور خلیفۃالمسیح کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کریں۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ خصوصی طور پر میرے خطبات جمعہ کو باقاعدگی سے سنیں نیز دیگر تقریبات اور مواقع پر میرے خطابات بھی سنیں۔ اس سے آپ خلافت کے ساتھ ایک مستقل تعلق برقرار رکھ سکیں گے اور آپ کے ایمان کو بھی تقویت ملے گی۔
میں آپ کو تبلیغ کے حوالے سے آپ کی ذمہ داریاں بھی یاد دلانا چاہتا ہوں جو ہر احمدی مسلمان کے لیے ضروری کام ہے۔ تبلیغ کے لیے حکمت سے منصوبے بنائیں اور اسلام احمدیت کے پُر امن پیغام کو کوسوو کے لوگوں تک پہنچانے کے مؤثر طریقے اور ذرائع بنانے چاہئیں۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے اور آپ کی زندگیوں میں مزید تقویٰ، حسن سلوک اور اسلام احمدیت و انسانیت کی خدمت کی طرف حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر فضل فرمائے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 4جون 2025ء)