اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

مرکز احمدیت قادیان میں ذیلی تنظیموں کے اجتماعات کے موقع پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بصیرت افروز پیغامات

(1) پیغام برائے مجلس انصاراللہ بھارت
اسلام آباد، یوکے
MA 9-9-2025
پیارے ممبران مجلس انصاراللہ بھارت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصاراللہ بھارت کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت فرمائے۔ آمین
مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میں اس موقع پر آپ کو بلاناغہ پنج وقتہ نماز کی ادائیگی اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کا پابند بنانے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
قرآن کریم میں متعدد جگہ نماز کی اہمیت مختلف حوالوں سے بیان کرکے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔ نیز آپؐنے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر تو یہ حساب ٹھیک رہا تو کامیاب ہوگیا اور نجات پالی ورنہ گھاٹا پایا، نقصان اٹھایا۔ (سنن الترمذی، ابواب الصلوٰۃ)
پھر بچوں کو بھی نماز کا پابند بنانے کے لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ سات سال کی عمر کو پہنچنے پر بچے کو نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں اس کو نماز کا پابند کرنے کے لیے کوئی سختی بھی کرنی پڑے تو کرو۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ)
اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ نماز باجماعت میں اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت 27 گنا زیادہ ثواب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اورصف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کرسکیں۔ وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔‘‘
(ملفوظات: جلد 8 صفحہ 247 تا 248)
پس نماز باجماعت سے جہاں ایک وحدت کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ امت میں پیدا کرنا چاہتا ہے وہاں ایک دوسرے کی نیکیوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔ جب نیکیوں میں بڑھنے او رترقی کرنے اور روحانیت کے بڑھانے کی قوت بڑھے گی اور جب یہ وحدت پیدا ہوتی ہے تو پھر شیطانی طاقتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ آج دنیا کے جو حالات ہورہے ہیں ان کے بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنا بہت ضروری ہے۔ پس انصاراللہ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی اہمیت کو سمجھیں اِقَا مَۃُ الصَّلوٰۃ کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ اپنے بچوں کو، اپنے گھر والوں کو نمازوں کی طرف توجہ دلائیں۔ اگرتمام انصار اس کی طرف توجہ کریں تو ایک انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔ پس اس طرف توجہ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
پھر ہمیں اس زمانے میں دینی مجالس منعقد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلسوں اور اجتماعوں کے انعقاد کے بھی انتظام فرمادیئے ہوئے ہیں۔ یہاں ہم اکٹھے ہوتے ہیں اس لیے کہ دینی باتیں بھی سنیں، اکٹھے ہو کر نمازیں بھی پڑھیں، محبت اور انس پیدا ہو۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ایک زائد چیز ہم میں پیدا فرمادی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے۔ اور شکر گزاری کرنے کا حقیقی طریق یہی ہے کہ یہ عہد کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا بھی حق ادا کریں گے اور بندوں کے بھی حق ادا کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ نماز خدا کا حق ہے … یہ دین کو درست کرتی ہے، اخلاق کو درست کرتی ہے، دنیا کو درست کرتی ہے۔ نماز کا مزہ دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے … قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔‘‘
(ملفوظات: جلد 6 صفحہ 370-371)
نماز میں لذت آئے گی تو سمجھو تمہیں دنیا کی جنت مل گئی۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لیے ہمیں محنت کرنی پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عبادتوں کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کی معرفت ہمیں پیدا ہو۔ نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہوں بلکہ اپنے بچوں کے لیے بھی نمونہ بن جائیں۔ آمین
والسلام خاکسار
مرزا مسرور احمد (خلیفۃ المسیح الخامس )