اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-30

حضور انور ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ لائبیریا2025ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام(اردو مفہوم)

پیارے احباب جماعت احمدیہ لائبیریا۔
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا 21واں جلسہ سالانہ 24،25 اور 26؍جنوری 2025ءکو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور آپ سب غیر معمولی برکات حاصل کریں اور آپ سب اسلام اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے متعلق اپنا علم و فہم بڑھانیوالے ہوں۔
یادرکھیں کہ یہ کوئی معمولی دنیاوی تقریب یا تہوار نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیںکہ اس جلسے کا بڑا مقصد یہ ہے کہ جماعت کے مخلص افراد دینی استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو آگے بڑھائیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ مختلف دوستوں سے ملنے سے بھائی چارے کا دائرہ وسیع ہوگا اور ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ (ماخوذ از آسمانی فیصلہ)
پس، جماعت احمدیہ مسلمہ کے جلسے اس لیے منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ ہم اس روحانی ماحول سے فائدہ ہ اٹھا کر اپنی باطنی اصلاح کر سکیں اور اپنی اخلاقی حالت کو پاکیزہ بناسکیں۔ جلسہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اوراپنے اندر تقویٰ یعنی اللہ کے خوف کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
جلسہ کا ماحول آپ کے دلوں میں نرمی، شفقت اور عاجزی پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔ یہ جماعت کے اندر پیار اور بھائی چارہ کے رشتوں کو بڑھانے کا ذریعہ ہونا چاہیے اور آپ کو نہ صرف ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنے بلکہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کی ایک عمدہ مثال قائم کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں میں عاجزی اور نرمی پیدا کرنی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم میں اسلام کی خدمت کا شوق اور جذبہ پیدا ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ، جو ہمارا خالق ہے، اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دس شرائط بیعت مقرر کی ہیں، ہر شرط بیعت اپنے اندر بے شمار حکمتیں رکھتی ہے۔ یہ شرائط، زندگی کے ہر معاملہ میں، آپ کے لیے مشعل راہ ہونی چاہئیں۔ ان شرائط پر عمل پیرا ہو کر ہم اس روحانی مشعل کو بلند رکھ سکتے ہیں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عطا کی ہے اور دوسروں کے لیے بھی حقیقی تقویٰ کی راہ روشن کر سکتے ہیں۔
اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظام خلافت کی نعمت سے نوازا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کو خلیفہ وقت کا وفادار اور فرمانبردار رہنا چاہیے۔ اور خلیفہ وقت کے ساتھ محبت اور وفاداری کے تعلق میں مضبوطی پیدا کرتے رہنا چاہیے۔ یہ ہماری مستقل ترقی کی کنجی ہے اور اس ذریعہ سے ہم جماعت کی کامیابی کو مشاہدہ کرنیوالے ہوسکتے ہیں۔ آپ کو ایم ٹی اے باقاعدگی کے ساتھ دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خانہ، خصوصاً اپنے بچوں کو اس کی عادت ڈالیں۔ بالخصوص میرے خطبات جمعہ کو باقاعدگی سے سنیں اور دیگر تقریبات اور مواقع پر بیان کی گئی میری باتوں پر بھی عمل کریں۔
میں ہر ایک فرد جماعت کو تبلیغ کی اہمیت یاد دلاتا ہوں۔ مورخہ 8؍ستمبر2017ء کے خطبہ جمعہ میں مَیں نے کہا تھا:’’ہمارے سے اگر پوچھا جائیگا تو صرف اتنا جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم نے پیغام پہنچایا؟ یا پھر کیوں ہم نے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا؟ اور کیوں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نہیں کیا؟ ہمارا کام تبلیغ کرنا ہے،پیغام پہنچانا ہے،اسلام کی خوبیوں اور خوبصورت تعلیم کو دوسروں پر ظاہر کرنا ہے اور یہ کام ہم نے کرتے چلے جانا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍ستمبر۲۰۱۷ء)
لہٰذا میں ہر فرد جماعت کو تلقین کرتا ہوں تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ آپ باقاعدگی سے جماعتی پروگرام منعقد کریں اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کریں، لائبیریا کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کے پرامن پیغام کو پھیلانے کے لیےہر وقت نئے طریقے اور ذرائع تلاش کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں مَیں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور پختہ عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ عہد کریں کہ آپ وہ تمام خالص تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کی گئی بیعت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان شاء اللہ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ دنیا میں ایک حقیقی روحانی انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس ہدایت پر بہترین انداز میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر فضل فرمائے۔ ٭٭٭