اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-29

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ تنزانیہ 2024ء کے موقعہ پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت تنزانیہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ترپن واں جلسہ سالانہ مورخہ 27،28 اور 29؍ ستمبر 2024ء کو منعقد کررہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے، آپ سب بے انتہا فضلوں کے وارث بنیں اور ہمارے مذہب یعنی اسلام اور ہمارے پیارے نبی کریم محمد ﷺکی دی ہوئی تعلیمات اور ہدایات کے متعلق علم و فہم میں اضافہ کرنے والے ہوں۔
یاد رکھیں کہ یہ کوئی عام دنیاوی تہوار یا میلہ نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’ اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تاہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خداتعالیٰ کے فضل سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پزیر ہوں گے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 340، ایڈیشن 1989ء)
پس ہمیں اس منفرد اجتماع کے مقدس ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ ہم اپنے باطن کو بہتر بنا سکیں اور اس طرح اپنی اخلاقی حالت کو پاک کرسکیں اور اس کے نتیجہ میں ہم اپنے ایمان کو مضبوط کرسکیں اور تقویٰ یعنی راستبازی کے اپنے معیار کو بڑھاسکیں اور اپنے اندر اللہ کا حقیقی خوف پیدا کرسکیں۔
یقیناً یہ جلسہ ہمارے دلوں میں نرمی، شفقت اور عاجزی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔ یہ جماعت کے اندر پیار اور بھائی چارہ کے رشتوں کو بڑھانے کا ذریعہ ہونا چاہئے اور ہمیں اس قابل بنانے والا ہونا چاہئے کہ ہم نہ صرف ایک دوسرے کا خیال رکھیں بلکہ دوسرے ضرورت مند لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی بہترین مثال قائم کریں۔ ہمیں اپنے روز مرہ کے طرز عمل اور سلوک میں عاجزی او رنرمی پیدا کرنی چاہئے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اسلام کی خدمت کے لیے جوش و جذبہ پیدا کرنا چاہئے اور اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اس حوالہ سے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ’’ یہ وہ امور اور شرائط ہیں جو میں ابتدا سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ ان تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔ اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔ اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور در گذر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو۔ اور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اٹھ جاؤ … خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنادے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔‘‘
(اشتہار 29؍ مئی 1898ء، مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 434)
میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ خلیفۃ المسیح سے قریبی تعلق بنانے کی کوشش کریں اور ہمیشہ وفادار رہیں۔ آپ اپنے بچوں کو بھی خلافت کی ان گنت نعمتوں کا بتائیں (کی تعلیم دیں) اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی آنے والی نسلیں خلافت احمدیہ کی بابرکت راہنمائی، حفاظت اور پناہ گاہ میں مستقل رہیں۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہئے اور اپنے اہل خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔
میں جماعت کے ہر ایک فرد کو تبلیغ کی اہمیت کی یاد دلاتا ہوں۔ مورخہ 8؍ ستمبر 2017ء کے خطبہ جمعہ میں مَیں نے کہا تھا: ’’ ہمارے سے اگر پوچھا جائے گا تو صرف اتنا جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم نے پیغام پہنچایا؟ یا پھر کیوں ہم نے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا؟ اور کیوں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نہیں کیا؟ … تمہارا کام تبلیغ کرنا ہے۔ پیغام پہنچانا ہے۔ حق کا پیغام دنیا کے ہر شخص تک پہنچانا ہے۔ اسلام کی خوبیوں اور خوبصورت تعلیم کو دوسروں پر ظاہر کرنا ہے۔ وہ کئے جاؤ۔‘‘
پس تنزانیہ کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کے پُر امن پیغام کو پہنچانے کے لئے حکمت سے منصوبے بنائیں اور نئے ذرائع تلاش کریں۔
آخر میں ، مَیں آپ سب کو کہتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آگے بڑھیں اور پورے عزم اور ہمت کے ساتھ عہد کریں کہ آپ ہمیشہ اپنی زندگیوں میں تمام پاک تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے تا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کے ساتھ کی گئی بیعت کی ہر ایک شرط پر عمل کرتے ہوئے اسے پورا کرسکیں۔ ان شاء اللہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ دنیا میں ایک حقیقی روحانی انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس ہدایت پر بہترین انداز میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر رحم کرے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل17 دسمبر 2024ء)