اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-17

جماعت احمدیہ ناروے کے 41 ویں جلسہ سالانہ منعقدہ 22 اور 23 جون 2024 ء کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز پیغام

پیارے احباب جماعت احمد یہ ناروے
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته
الحمد للہ کہ جماعت احمد یہ ناروے کو22 اور23 جون2024ء کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے اس جلسہ کو خیر و برکت کا باعث بنائے اور اس کی روحانی اور علمی برکات سے کماحقہ مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جلسہ سالانہ جس کی بنیاد خود امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رکھی ہے، اسکو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس جلسہ کا مقصد بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اس جلسہ میں ایسے حقایق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہیں اورنیز ان دوستوں کیلئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہو گی اور حتی الوسع بدر گاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالی اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی اُن میں بخشے۔“
(آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 376)
نیز فرمایا: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تاہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالی کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیرہو‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 340تا 341)
پس ہمارے جلسوں کا مقصد یہ ہے کہ ان میں شامل ہونے والے دین میں، علم میں اورمعرفت میں ترقی کریں۔ ان کے دل خدائے واحد کی طرف جھک جائیں۔ آپس کے تعلقات پختہ ہوں۔ محبت واخوت بھی قائم ہو۔ آپس میں تعلق اور پیار میں بڑھیں اور یکجہتی پیدا ہو۔ اگر یہ باتیں پیدا نہیں ہوتیں، پاک دلی، پر ہیز گاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں ہوتی تو پھران جلسوں کا کوئی فائدہ نہیں۔
فرمایا کہ
’’ یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کےمیلوں کی طرح خواہ نخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسن ثمرات پر موقوف ہے ور نہ بغیر اس کے ہیچ۔‘‘
( شہاد القرآن روحانی خزائن جلد نمبر 6 صفحہ 395)
یعنی اس کی اصل نیت جو ہے وہ روحانی عزت کو بڑھانے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی ہے رسول کی محبت حاصل کرنے کی ہے۔ ورنہ تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پس یہ پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالی کا قرب پانے کے لئے جد وجہد کریں۔ آپ کے دل فروتنی کا سجدہ کرنے والے بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ آپس میں یکجہتی پیداکریں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہے یا اپنے مقامات میں بودو باش رکھتے ہیں، اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اورمریدی کارکھتے ہو اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کےاعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آسکے۔ وہ پنجوقتہ نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں…ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور
نا کردنی اورناگفتی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے… خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اورخیانتوںسے بچاویں اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اورغبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بے جا طرف داری سے باز رہیں…چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اورٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو… عفو اور درگزر کی عادت ڈالو… خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تمام دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 46تا 48)
ا للہ تعالیٰ آپ سب کو ان باتوں پرعمل کرنے کی توفیق دے اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دعاؤں کے وارث بنیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لئے اور جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں۔ آمین۔(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 19 ستمبر 2024)
ضض ض