اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-10

جماعت احمدیہ جرمنی کی مجلس انصاراللہ کے 43 ویں سالانہ اجتماع منعقدہ 2024 ء کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز پیغام

مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ جرمنی
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
آپ نے مجلس انصاراللہ جرمنی کے سالانہ نیشنل اجتماع کے لئے پیغام کی درخواست کی تھی۔ اس مبارک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو اپنی کچھ اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں احمدیت کی نعمت سے نوازا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے آپؑکی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطاء فرمائی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا ہم میں سے ہر ایک پر فرض ہے۔ مجلس انصاراللہ کی تنظیم بھی اسی بنیاد پر قائم کی گئی ہے اور اس کے اراکین کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داریاں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ جماعت کے وہ ستون ہیں جن پر نہ صرف آپ کی اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت کا بار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْن ِیعنی ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ (الذاریات :57) یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس بنیادی حکم کی یاد دلاتی ہے کہ ہماری پیدائش کا اصل مقصد محض اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے عبادت کرنا ہے۔ یہ حکم صرف انصار اللہ سے مختص نہیں بلکہ ہر ایک مسلمان کے لئے عام ہے۔ لیکن آپ عمر کے اس حصہ میں شامل ہیں جہاں انسان کو صحیح اور غلط کا پورا ادراک ہو جاتا ہے اور وہ پختگی اور سنجیدگی کے ساتھ دنیاوی آلائشوں سے الگ ہو کر اخروی زندگی کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ پس آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بلند سے بلند تر کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتے چلے جائیں۔ نمازوں کی پابندی، حتی الوسع تہجد کی ادائیگی، تلاوت قرآن کریم، ذکرالٰہی اور دعاؤں میں مشغول رہنا آپ کی زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح، تحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسولؐ کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔‘‘ پس حقیقی نماز وہ دعا ہے جو بڑے جوش اور درد سے مانگی جاتی ہے اور جس میں خدا تعالیٰ کی تعریف و تقدیس کے ساتھ اس کے حضور میں اپنی حاجتیں پیش کی جاتی ہیں۔ اس لئے اپنی نمازوں میں اسی جوش و خروش اور درد کو پیدا کریں جس سے آپ کی دعائیں اور عبادتیں قبولیت کا درجہ پائیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ثمراتِ حسنہ ظاہر فرما کر آپ کو اخلاقی اور روحانی بلندیوں کا وارث بنائے۔
دوسری اہم ذمہ داری جو مجلس انصاراللہ کے ہر ممبر پر عائد ہوتی ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا کہ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ (التحریم: 7) آج کل کے اس دور میں جہاں ہر طرف لادینیت اور مادیت کا بول بالا ہے اور دنیا دین اور مذہب کو چھوڑ کر عارضی لذتوں کے چنگل میں گرفتار ہوتی جا رہی ہے اور معاشرتی امن و سلامتی کی بیخ کنی کر رہی ہے ایسے میں آپ کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ آپ اپنی نسلوں کو دین سے جوڑے رکھیں اور ان کی مذہبی بنیادوں کو پختہ کرتے جائیں۔ اور اس کے لئے اپنے بچوں کو دین کی صحیح تعلیم دینا اور انہیں قرآن کریم کی تعلیمات سے روشناس کرواتے ہوئے ان کی صحیح تربیت کرنا اور ان کے سامنے اعلیٰ نمونے قائم کرنا بہت ضروری امر ہے۔ آنحضور ﷺنے فرمایا کہ ’’تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔‘‘ (بخاری) پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو مجلس انصاراللہ پر عائد ہوتی ہے۔ آپ سب اپنے گھروں کے نگران ہیں اور اپنی اولادوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا خیال رکھنا، ان کی پرورش کرنا اور ان کے اندر نیکیاں پیدا کرنے کے رجحان کو پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہنا آپ کا اہم فریضہ ہے۔ اس لئے اپنے بچوں کو سب سے پہلے نمازوں کی پابندی کی عادت ڈالیں۔ ان کے ساتھ مل کر قرآن کریم کی تلاوت کیا کریں۔انہیں جماعتی پروگراموں میں شرکت کی ترغیب دیں اور جو پروگرام منعقد ہوں ان میں خود شامل ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی شامل کریں تا کہ ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ ہمیں تو حکم دیتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس لئے سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپ ان کے سامنے ایسے نمونے قائم کریں جو ان کے لئے مشعل راہ بنیں۔
اگر آپ ان باتوں پر عمل کرنے والے ہوں گے تو تبھی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بن سکتے ہیں۔ ورنہ اگر آپ کے قول اور فعل میں تضاد ہو گا تو لوگ آپ کی باتوں کو سننے کی بجائے انہیں نظر انداز کر دیں گے اور اس طرح پھر اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا میں پھیلانے کی بجائے آپ کے عملی نمونے اس مقصد کے حصول میں روک بن رہے ہوں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔‘‘ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ آپؑدنیا میں تقویٰ اور طہارت کی راہ دکھلانے اور ایک روحانی انقلاب برپا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے۔اس مقصد کے حصول کے لئے اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی مددگار بننا چاہتے ہیں اور اپنی نسلوں کی حفاظت چاہتے ہیں اور انہیں دین پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر پہلے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے اپنے گھروں میں اور حلقہ احباب میں نیک نمونے قائم کریں اور پھر اپنے ماحول میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلائیں تا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور پر خلوص رویوں کو دیکھ کر لوگوں کے دل نیکی اور سچائی کی طرف راغب ہوں۔ اس طرح پھر تبلیغ کی راہیں بھی کھلیں گی اور لوگوں کو احمدیت کی سچائی سے متعارف ہونے کی توفیق بھی ملے گی۔ پس انصاراللہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اشاعت اسلام کا فریضہ نبھائیں۔ اپنے اندر تبلیغ کا جذبہ پیدا کریں اور ہمیشہ اعلائے کلمة اللہ کی فکر میں مبتلا رہیں اور اس راہ میں حتی الامکان جو خدمت کر سکیں وہ بجا لائیں۔
یاد رکھیں یہ ذمہ داریاں آسان نہیں ہیں۔ ان پر عمل کرنے کے لئے آپ کو مسلسل کوشش اور جدوجہد کرنی ہو گی۔ اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ہو گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ اس الٰہی جماعت کے ساتھ ہے۔ وہ آپ کی مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اور کامل یقین اور توکل کے ساتھ اس سے مدد مانگیں۔ سب مل کر اس اجتماع سے یہ عہد کر کے اٹھیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھائیں گے۔ اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بلند کریں گے۔ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں گے اور آخری دم تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے علمی، اخلاقی اور روحانی معیاروں کو بلند تر کرتا چلا جائے اور آپ سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورے اخلاص و وفا کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا یہ اجتماع بھی ہر لحاظ سے بابرکت اور کامیاب فرمائے۔ آمین
ضض ض