اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-05

جماعت احمدیہ فن لینڈ کے 11ویں جلسہ سالانہ 2024کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بصیرت افروز پیغام

الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ فن لینڈ کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو ہر لحاظ سے مبارک کرے اور آپ کو اس کی برکات کا وارث بنائے۔
یاد رکھیں کہ جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد نیکی اور تقویٰ اور خداتعالیٰ کی وحدانیت کا ادراک اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے اس غرض کے لئے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کا منشاء ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ83۔ جدید ایڈیشن)
پس ہر احمدی کو اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی کوشش اور اطاعت اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔صدق کے نمونے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’بجز تقویٰ کے اَور کسی بات سے خدا تعالیٰ راضی نہیں ہوتا‘‘۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ 7 ایڈیشن 2003ء)
پس ہر احمدی کے لیے تقویٰ پر چلنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسے مقدس وجودسے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے اور اس مامور کی بیعت میں شامل ہونے کا فائدہ تبھی ہو گا جب شامل ہونے والے جو کہ شامل ہونے سے پہلے رُو بہ دنیا تھے، ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے، ہر قسم کی برائیوں سے نجات پائیں۔ اور برائیوں سے نجات بجز تقویٰ پر قدم مارنے کے پائی نہیں جاسکتی ۔
پس اپنی عملی حالتوں کو ٹھیک کرنے کی ہر احمدی کوشش کرے اور اسے کرنی چاہیے۔ پھر آپس میں وحدت اور اکائی پیدا کریں۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:’’اﷲ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفسِ واحد کی طرح بناوے۔اس کا نام وحدتِ جمہوری ہے جس سے بہت سے انسان بحالتِ مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔مذہب سے بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدتِ جمہوری کے ایک دھاگہ میں سب پروئے جائیں ۔یہ نمازیں با جماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لئے ہیں تا کہ کُل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لئے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اُسے قوت دیوے۔حتیٰ کہ حج بھی اسی لئے ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ۱۰۰۔ایڈیشن۱۹۸۸ء)
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو خلافت کی نعمت سے نوازا ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں آپؑ کی تعلیمات کو پھیلانے اور جماعت کی روحانی اور دینی ترقی کے لیے قائم ہوئی ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کی قدر کریں۔ اس کے ساتھ چمٹے رہیں اور اس کی ا طاعت میں اپنی زندگیاں بسر کریں۔ آپ کی تقویٰ میں ترقی کا ذریعہ خلیفہ وقت کے ارشادات پر عمل پیرا ہونا ہےاور اپنے ایمان کے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ نمازوں اور نوافل اور دعاؤں پر زور دیں۔راتوں کو اٹھ کر سجدوں میں گڑگڑائیں تا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو تباہی سے بچائے اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے غیر معمولی نظارے ہمیں دکھائے۔آمین۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 28 جون 2024)