اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-29

ماعت احمدیہ گیمبیا کے 46ویں جلسہ سالانہ منعقدہ 24 تا 26 مئی 2024کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بصیرت افروز پیغام

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا46واں جلسہ سالانہ24تا26؍مئی2024ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا جلسہ کامیاب کرے، آپ سب بےانتہا فضلوں کے وارث ہوں، اپنے عقائد اور ہمارے مذہب یعنی اسلام کے عقائد اور اس کی خوبصورت تعلیمات اور آنحضورﷺ کی دی ہوئی ہدایات کے متعلق علم میں اضافہ کرنے والے ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کی دس شرائط بیان فرمائی ہیں۔ یہ شرائط آپ کے لیے مشعل راہ ہونی چاہئیں اور اگر ان کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے تو دنیا میں حقیقی اخلاقی انقلاب لاسکتے ہیں۔ ہر شرط بیعت اپنے اندر بے شمار حکمتیں رکھتی ہے۔ ایک احمدی کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے ان میں سے ہر ایک شرط پر خوب غورو خوض کرتے رہنا چاہیے۔ خود احتسابی اور مستقل اپنے اعمال کے جائزے لینے کے ذریعے سے ہی ہم شرائط بیعت کے تقاضوںکو پورا کر سکتے ہیں ۔
میں آٹھویں شرط بیعت کی طرف آپ کو توجہ دلاتا ہوں جو یوں ہے: ’’دین اور دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔‘‘
حضرت مسیح موعودؑ اس ضمن میں فرماتے ہیں:’’اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے ؟ہمارا اسی راہ میں مرنا۔ یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اَب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اُس حکیم وقدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا…‘‘
(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۰-۱۲)
اس لیے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے احیائے اسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے انتھک کوشش کرنے کا وعدہ کرنا چاہیے جس میں پہلی چیز ہمارے خالق اللہ تعالیٰ، جو واحد خدا ہے کی پہچان کروانا اور اس کی عبادت کی طرف بنی نوع انسان کومائل کرنا ہے۔ دوسری چیز حقوق العباد ادا کرنا ہے تا کہ زمین پر امن اور ہم آہنگی قائم ہو سکے۔
چنانچہ یہ ضروری ہے کہ آپ تبلیغ کے ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ۔ حتیٰ کہ آنحضور ﷺ کو بھی اللہ کی طرف سے اسلام کا پیغام پھیلانے کا حکم دیا گیا تھا جس پر آپﷺ نے دیانتداری کے ساتھ اور زندگی بھر عمل کیا۔ قرآن کریم میں ہم پڑھتے ہیں: یٰاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ۔ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۔ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (المائدۃ:۶۸) ترجمہ: اے رسول! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے ربّ کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اور اگر توُ نے ایسا نہ کیا تو گویا تُو نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ یقیناً اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
میں نے مستقل احباب جماعت کو تبلیغ کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ’’یہ [تبلیغ اسلام کا]فرض آپ [حضرت مسیح موعودؑ]نے ہم پر ڈالا کہ اس کے ذریعہ سے تم تبلیغ کرو۔ جس حق کو اور ہدایت کو اور سچائی کو تم نے قبول کیا ہے اس کو دنیا میں پھیلاؤ اور بتاؤ اور یہ پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ لوگ مانتے ہیں کہ نہیں مانتے۔ پیغام یہاں کے ہر شہری تک پہنچ جانا چاہئے۔ ہر ملک کے ہر شہری تک ہر احمدی کو پہنچا دینا چاہئے اور یہی وہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے۔‘‘
(اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ بیلجیم ۲۰۱۸ء)
ایک خطبہ جمعہ میں مَیں نے احباب جماعت کو اس طرح سے نصیحت کی تھی: ’’ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں… کہ ہمارے پاس علم نہیں ہے اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکتے… ہمیں علمی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے دلائل سے لیس کر دیا ہے اور جماعتی لٹریچر میں اس علم کو مہیا کر دیا گیا ہے کہ معمولی سی کوشش بھی کافی حد تک علمی مضبوطی عطا کر دیتی ہے۔ پھر سوال و جواب کی صورت میں آڈیو ویڈیو مواد موجود ہے۔ پھر ویب سائٹس ہیں… بہت سے لوگ جب ان کو پیغام پہنچایا جائے تو ان میں سے بعض غیر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس اس وقت لمبی بحث کا وقت نہیں ہے۔ انہیں پمفلٹ بھی دئیے جاسکتے ہیں… پس ایک تو پہلے اپنا علم بڑھانے کی ضرورت ہے… دوسرے یہ پتا ہونا چاہئے کہ اس وقت ہمارے لٹریچر اور ویب سائٹ میں کہاں یہ علمی جواب اور مواد میسر ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍ستمبر ۲۰۱۷ء)
لہٰذا میں ہر ایک احمدی کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور اسلام احمدیت کے پُرامن پیغام کو ملک کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک کام میں کامیابی عطا فرمائے۔
اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظامِ خلافت سے نوازا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کو خلافت کا وفادار اور فرمانبردار رہنا چاہیے اور خلیفہ وقت کے ساتھ محبت اور اخلاص کے تعلق کو مسلسل مضبوط کرتے رہنا چاہیے۔ یہ ہماری مسلسل ترقی کی کلید ہے اور ہمارا جماعت کی دائمی ترقی کو مشاہدہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ آپ کو میرے خطبات جمعہ کو سننا چاہیے اور دیگر مواقع پر بھی بیان کی گئی باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
آخر میں مَیں آپ کو اس سال کے شروع میں گھانا جماعت کے صد سالہ جلسہ سالانہ کے موقع پر کہے گئے اپنے الفاظ یاد دلاتا ہوں جو درج ذیل ہیں: ’’میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آگے بڑھیں اور پورے عزم اور ہمت کے ساتھ عہد کریں کہ آپ ہمیشہ کے لیے وہ تمام ضروری تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کیے گئے عہد بیعت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ ان شاء اللہ، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ دوسروں تک اسلام پہنچانے کا ذریعہ بنیں گے اور اپنے ہم وطنوں اور درحقیقت پوری دنیا کے لوگوں کو حقیقی اسلام کے سائے تلے لانے والے ہوں گے۔‘‘(اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ گھانا ۲۰۲۴ء)
اللہ آپ کو ان نصائح پر احسن رنگ میں عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ ٭٭
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 25 جون 2024)