مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ17و 18 فروری2024ء کو اپنا دسواں جلسہ سالانہ منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ سالانہ کو کامیاب کرے اوراس میں شریک ہونے والے تمام لوگ بے شمار روحانی برکات حاصل کریں۔
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ اس جلسے کا مقصد اپنی اصلاح کی خاطر اللہ تعالیٰ سے خاص روحانی تعلق قائم کرنا، ہمارے مذہب اسلام اور آنحضورﷺ کی تعلیمات اور آپؐکے اسوہ کے متعلق علم و ادراک حاصل کرنا ہے۔
چنانچہ اگر ہم ایک فقرے میں حضرت مسیح موعودؑ کے بیان فرمودہ جلسہ سالانہ کے مطلب کو سمجھنا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ ’تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنا‘۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اس فقرے میں ایک نہایت اہم سبق دیا ہے۔ اور اگر ہم اس پر عمل کریں تو ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا کو مکمل ترک کردیں اور ہر کسی سے اپنا تعلق توڑ دیں۔ بلکہ اس دنیا میں رہتے ہوئے اور اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ہمیں تقویٰ کے راستے پر رہنا ہے اور کسی قسم کی دنیاداری ہمیں اس سے ہٹا نہ سکے۔
اس حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ’’میں یہ سب باتیں بار بار اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہوچکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۲۷۷-۲۷۸)
آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کے مقصد کو بھی اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے جنہیں اللہ نے یوں مخاطب کیا ہے کہ ’’میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور تیرا ذکر بلند کروں گا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔ جَعَلْنَاكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ) ان کو کہہ دے کہ مَیں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۱۶۳)
پس آپ کا جلسہ سالانہ جو قادیان سے ہزاروں میل دور منعقد ہورہا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں احمدی احباب حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کی گواہی دینے کےلیے نیک تمناؤں کے ساتھ جمع ہیں اور آپؑکا نام انتہائی تکریم سے لیتے ہیں۔ یہ بھی حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کا ایک ثبوت ہے جن کی آمد کی خبر حضرت محمدﷺ نے دی تھی اور جس کی پیشگوئی خود قرآن کریم میں موجود ہے۔اور آپ سب لوگ اس عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کا زندہ ثبوت ہیں۔ اس لیے ہر احمدی کو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے بابرکت مشن کو پورا کرنے کے لیے انتھک کوشش کرے گا جس میں پہلی چیز خالق حقیقی اللہ تعالیٰ کی پہچان کروانا اور اس کی عبادت کی طرف مائل کرنا ہے۔ دوسری چیز حقوق العباد ادا کرنا ہے تا کہ زمین پر امن اور ہم آہنگی قائم ہو سکے۔
اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور اپنے روحانی اور اخلاقی معیار کو بڑھانے کے لیے آپ جلسہ کی کارروائی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیار، نیکی اورآپ کے دلوں میں اللہ کا خوف بڑھانے والا ہونا چاہیے۔ درحقیقت آپ کا واحد و یگانہ مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’انسان کو چاہیئے کہ روحانی پانی کو تلاش کرے تو وہ اسے ضرور پالے گا۔ اور روحانی روٹی کو ڈھونڈے تو وہ اسے ضرور دی جائے گی۔ جیساکہ ظاہری قانون قدرت ہے ویسا ہی باطن میں بھی قانون قدرت ہے۔ لیکن تلاش شرط ہے جو تلاش کرے گا وہ ضرور پالے گا۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں جو شخص سعی کرے گا خدا تعالیٰ اس سے ضرور راضی ہوجائے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد 10صفحہ 95)
میری آپ کو نصیحت ہے کہ تمام شرائط بیعت کی کما حقہ پیروی اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو سب سے آگے رکھیں اورخلیفۃ المسیح سے قریبی تعلق قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور ہمیشہ خلیفہ وقت کے وفادار رہیں۔ ایم ٹی اے کثرت سے دیکھیں اور اپنے اہل و عیال خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔
میں آ پ کو تبلیغ کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کہ ہر احمدی کے لیے ضروری ہے۔ حکمت سے منصوبے بنائیں اور کیمرون کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کے پُر امن پیغام کو پہنچانے کےلیے نئے مؤثر طریقے اور ذرائع تلاش کریں۔
آخر پر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو ہرلحاظ سے کامیاب کرے اور اللہ آپ کو اپنی زندگیوں میں تقویٰ اور اچھے اخلاق اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی جانب جانے والی حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق دے۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا رحم کرے۔
(رپورٹ: عبدالخالق نیر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل28 مئی 2024 )
…٭…٭…٭…