اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-18

جماعت احمدیہ لائبیریا کے 20 ویں جلسہ سالانہ منعقدہ 16,17 اور 18 فروری 2024کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بصیرت افروزخصوصی پیغام

مجھے یہ جان کربہت خوشی ہوئی ہے کہ اللہ کے فضل سے آپ اپنا بیسواں جلسہ سالانہ مورخہ16,17 اور 18 فروری 2024ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو اعلیٰ کامیابی عطا فرمائے اور تمام شاملین جلسہ کو بے شمارنعمتیں حاصل ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر جو خاص انعامات ہوئے ہیں ان میں سے ایک جلسہ سالانہ کا قیام ہے۔ یہ ایک منفرد اجتماع ہے جو ہمیں اپنے دلوں کو صاف کرنے، اپنے روحانی و اخلاقی معیار کو بہتر کرنے اور اپنے مذہب اسلام کے بارے میں علم میں اضافہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس سے ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کر سکتے ہیں۔
آپ کو ہمیشہ ان عظیم مقاصد کو ذہن میں رکھنا چاہیے جن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت قائم کی۔ مزید آپ کو اپنی بیعت کی ذمہ داریوں کوبھی پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درج ذیل الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے:’’یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقویٰ شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر ایک نیک اثر ڈالے۔ اور ان کا اتفاق اسلام کے لیے برکت و عظمت و نتائج خیر کا موجب ہو اور وہ بہ برکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آسکیں… خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا دے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۹۶-۱۹۸، ایڈیشن ۱۹۸۹ء)
یاد رکھیں کہ ہر شرط بیعت اپنے اندر بے شمار حکمتیں رکھتی ہے۔ یہ شرائط آپ کی زندگیوں کا مشعل راہ ہونی چاہئیں اور اگر آپ اپنے آپ کو ان کے مطابق چلائیں تو آپ دنیا میں ایک حقیقی اخلاقی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ایک احمدی مسلمان کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے ان میں سے ہر ایک پر غور و فکر کرتے رہنا چاہیے۔ خود احتسابی اورمستقل طور پر اپنے روزمرہ کے اعمال کا جائزہ لینے سے ہم اپنے عہد بیعت کی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر شرائط بیعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پانچویں شرط یہ بیان کی ہے :’’یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عُسر اور یُسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہو گا اور ہر ایک ذِلّت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، دنیاوی چکاچوند اور جال میں نہ پھنسیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہیں۔اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو فی الواقع آپ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق ہےاور آپ یقیناً اپنی تمام مرادیں پائیں گے۔ اس ضمن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبصورت نصیحت درج ذیل ہے:’’اللہ کو اپنے ذہن میں رکھو تو اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ اللہ کو اپنے آسانی کے وقت میں یاد رکھو وہ تمہیں مشکل کے وقت میں یاد رکھے گا۔ یاد رکھو کہ جو تم سے کھویا گیا وہ تمہارے لیے نہیں تھا۔ اور جو تمہارےلیے ہے وہ ہر حال میں تم تک پہنچ کر رہے گا۔ یاد رکھو کہ اللہ کی مدد ثابت قدمی کے نتیجہ میں آتی ہے۔ اور آسانی اور مشکل کے اوقات ملے جلے ہوتے ہیں۔اور ہر مشکل کے بعد آسانی کا وقت ضرور آتا ہے۔‘‘(ریاض الصالحین للامام النووی، باب المراقبہ، حدیث نمبر ۶۲)
پس یاد رکھیں خلافت احمدیہ کا کام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ عہد بیعت کو پورا کرے جو ہم خلیفہ وقت کے ہاتھ پر کرتے ہیں۔جماعت کی خوبصورتی خلافت میں ہےاور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہمارا رشتہ اس وجہ سے ہے کہ آپؑ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور مخلص وفادار ہیں۔ہمیں اس تعلق کو خلافت کے ساتھ بھی جوڑنا ہے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ آپ کوجلسہ کی کارروائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ایمان کو مضبوط کرے۔آپ ہمیشہ خلافت احمدیہ کے وفادار رہیں اوراللہ تعالیٰ آپ کو نیکی، تقویٰ اور طہارت میں بڑھنے،اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل فرمائے۔
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 13اپریل 2024)