مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا پہلا جلسہ سالانہ 9و10جون 2023ء کو منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین کو اس مخصوص اور منفرد جلسہ میں شرکت کرنے سے بہت بڑی برکتیں حاصل ہوں۔
ہم گواہ ہیں کہ سال بہ سال، جماعت احمدیہ مسلمہ بہت دور تک پھیل گئی ہے اور یہ جلسہ جات پوری دنیا میں باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہورہے ہیں۔ لہٰذا آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اب جارجیا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو جلسہ سالانہ کا انعقاد کرتے ہیں۔ یہ سب محض اللہ تعالیٰ کے فضل کی بدولت ہے جو ہمارا خالق ہے اور ہمیں اپنی دلی اور عاجزانہ شکرگزاری ادا کرنی چاہیے۔
آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جلسہ کا آغاز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خود اللہ تعالیٰ سے راہنمائی پاکر فرمایا تھا اور اس کا اصل مقصد احباب جماعت کی تعلیم و تربیت و اصلاح تھا۔ لہٰذا، جلسہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، دینی علم اور فہم میں ترقی کرنے، ہماری زندگیوں میں نیک تبدیلیاں لانے اور انہیں اپنے وجودوں میں چسپاں کرنے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس فانی دنیا کی خواہشات اور لہوولعب سے بچنا، باہمی محبت، پیار اور بھائی چارہ کے تعلقات کو بہتر کرنا، ان سب کاموں کو اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قابلیتوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرنا اور آخر کار ایک وعدہ کرنا کہ اسلام کے امن کے پیغام اور آنحضورﷺ کی خوبصورت تعلیم کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔ یہ سب جلسہ سالانہ کے انعقاد کے مقاصد ہیں۔
اس حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے…‘‘
(اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۲، مجموعہ اشتہارات، جلد اوّل، صفحہ ۳۶۰، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
اس لیے ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کیے گئے عہدِ وفا کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یقیناً، ہمیں شرائط بیعت کو انتہائی عزم اور مکمل وفاداری کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ رسول کریمﷺ کی پیشگوئیوں اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہم واقعی ان لوگوں میں شمار ہو سکیں جو حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے مشن کے لیے سچے مددگار ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکیں تو ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
بطور احمدی مسلمان آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ اپنے تمام اعمال و افعال میں ایک نمونہ بنیں اور ہر ایک سے نرمی، شفقت اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں۔ آپ کو مستقل طور پر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنے اندر بہتری لانی چاہیے۔ اور یوں نیکی، ایمانداری، دیانتداری، زُہد اور سب سے اہم طور پر تقویٰ یعنی راستبازی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ کیونکہ یہ جماعت خود محض اسلام کی خدمت اور انسانیت کو اپنے خالق کو پہچاننے کی غر ض سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کی گئی ہے۔
اسی طرح میں آپ کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ خلافت احمدیہ کے مبارک نظام کے ساتھ مضبوط تعلق بنائیں کیونکہ اسلام کے احیاء کا کام اور امن عالم کا قیام صرف نظام خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہی مکمل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، آپ کو ہمیشہ اس الٰہی نظام کی حفاظت کرنی چاہیے اور یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کی آنے والی نسلیں ہمیشہ خلافت کی بابرکت ہدایت اور اس کے سایہ تلے رہتے چلے جائیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شاملین جلسہ کے حق میں خود یہ دعا فرمائی ہے کہ :
’’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہر یک صاحب جو اس للّہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں، خدا تعالیٰ اُن کے ساتھ ہو اور اُن کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے … اے خدا اے ذوالمجد و العطا اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔ آمین‘‘
(اشتہار ۷ دسمبر ۱۸۹۱ء)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دلی دعا ئیں آپ سب کے ساتھ ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ سالانہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور آپ بہترین احمدی مسلمان بننے کی کوشش میں آگے بڑھتے چلے جائیں تاکہ اسلام اور انسانیت کی خدمت تازہ روحانی جوش اور طاقت کے ساتھ بجا لاسکیں۔اللہ تعالیٰ آپ پراپنی برکتیں برسائے۔
(رپورٹ: ہارون احمد عطاء،مربی سلسلہ جارجیا و افسر جلسہ گاہ)(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل13مارچ 2024)