مجھےاس بات کی بہت خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ گنی کناکری اپنا دسواں جلسہ سالانہ 30-31 دسمبر 2023ء کو منعقد کر رہی ہے۔ اللہ اس جلسہ کو بابرکت اور کامیاب کرے اور اس منفرد اور پاک جلسہ میں شریک تمام احباب بے شمار روحانی ترقیات حاصل کرنے والے ہوں۔
یہ بات نہایت اہم ہےکہ آپ اس جلسہ میں شامل ہونے کے حقیقی مقصد کوسمجھنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا ہےکہ ’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔ اور اس کے لیے قومیں طیار کی ہیں۔ کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے۔ جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
لہٰذا یہ جلسہ کوئی دنیاوی فوائد کے حصول یا تفریح کی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ روحانی ماحول سے حصہ لینے اوراپنی اخلاقی حالتوں کو درست کرنے کا ایک موقع ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہماری یاددہانی کروائی ہے کہ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے سب سے بڑی غرض تو یہ ہےکہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سےان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا۔ اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے‘‘۔(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ ۳۶۰، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
چنانچہ آپ کو محض اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ آپ نے مسیح و مہدی موعودؑ کو قبول کر لیا ہے جس کی آمد کے متعلق حضرت محمدﷺ نے خود خبر دی تھی۔ بلکہ آپ کو تمام شرائط بیعت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ شرائط آ پ کی زندگی کے لیے مشعل راہ ہونی چاہئیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالیں گے، اپنے جائزے لیں گے، غورو فکر سے کام لیں گے اور اپنے روز مرہ کے افعال کو بہتر کریں گے تو نہ صر ف آپ بہترین احمدی بن جائیں گے بلکہ دنیا میں حقیقی انقلاب لانے والے بھی ہوں گے۔ ہر شرط بیعت میں لامتناہی حکمتیں ہیں۔ ایک احمدی کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کےلیے ہر شرط بیعت پر خوب غور کرتے رہنا چاہیے۔
آپ کو اپنا دینی علم اور عقائد کے فہم کو بڑھانا چاہیے۔ اور اپنی تمام تر استعدادوں اور قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی روحانی حالت کو اس درجہ تک بڑھانا چاہیے جس کی حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کے احباب سے توقع کی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ’’اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لیے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں۔ اور محبت الٰہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتاہوا نظر آوے…خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیداکرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا دے۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۹۷-۱۹۸)
میں آپکو تاکید کرتا ہونکہ خلافت احمدیہ کو جو ایک الٰہی نظام ہے ہمیشہ اوّلین ترجیح دیں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت کی ترقی اور اسلام کی اشاعت اور دنیا میں امن کا قیام یہ سب بنیادی طور پر نظام خلافت سے منسلک ہیں۔ اسلئے میں آپکو نصیحت کرتا ہونکہ خلیفۃ المسیح سے پختہ تعلق بنائیں اور ہمیشہ اس سے وفادار رہیں۔ میں ہر احمدی کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایم ٹی اے دیکھے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ آپ کو خاص طور پر میرے خطبات جمعہ اور دوسرے مواقع پر کیے گئے خطابات کو سننا چاہیے۔ درحقیقت ایم ٹی اے خلافت سے آپ کا مستقل رابطہ جوڑ ے رکھتا ہے۔
میں آپکو یاد دلاتا چلوں کہ تبلیغ ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔آپ کو گنی کناکری کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کا خوبصورت اور محبت بھرا پیغام پہنچانے کیلئے دانشمندانہ منصوبے بنانے اور مؤثر انداز میں تبلیغی پروگرام ترتیب دینے چاہئیں۔ اللہ آپ سب کو اس کام کی توفیق دے۔
آخر پر میری دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ سالانہ کو ہر لحاظ سے کامیاب کرے اور آپ سب کو اپنا ایمان مضبوط اور مستحکم کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اللہ آپ کو اپنی زندگیوں میں تقویٰ اور اچھے اخلاق اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی جانب جانے والی حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق دے۔ اللہ آپ سب پر اپنا رحم کرے۔
(رپورٹ: طاہر محمود عابد۔ صدر و مبلغ انچارج گنی کناکری)
(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 5فروری 2024)