مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ آپ 28،29 اور30؍ اپریل 2023 ء کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کر رہے ہیں جس کا مرکزی عنوان ’’مذہبی آزادی‘‘ ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ آ پ کے جلسہ کو بہت کامیاب کرے اور وہ تمام لوگ جو اس خاص مقصد کیلئے وہاں جمع ہوئے ہیں بے پایاں روحانی فیوض حاصل کریںاور اللہ کرے آپ دین اسلام کے علم اور فہم میں ترقی کریں۔
اللہ تعالیٰ نے مذہبی آزادی اور شعور ی آزادی کو اس قدر مقدم رکھا ہےکہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت صرف ان لوگوں کے خلاف ہے جو مذہب کو دنیا سے مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کریم قطعیّت کے ساتھ اس بات کی وضاحت کرتا ہےکہ اگر مذہب کو مٹانے والوں کو طاقت کے زور پر نہ روکا جائے تو کوئی کلیسا،کنیسہ(یہودی عبادت گاہ)،مندر،مسجد یا کوئی بھی اور عبادت گاہ جہاں پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے،محفوظ نہیں رہے گی۔ تاہم قرآن کریم نے یہ ہر مسلمان کی مذہبی ذمہ داری مقرر کی ہے کہ وہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کریں اور اس مذہبی آزادی کو ہمارے مذہب میں بنیادی حیثیت دی ہے۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے انسانیت کے احترام کا درس دیا ہے۔ آپؐنے اپنے پیروکاروں کی اس بات کی راہنمائی فرمائی ہے کہ وہ ہر مذہب اور عقیدے کےلوگوں کے ساتھ رحم اور ہمدردی کا سلوک کریں اوران کے جذبات اور ضروریات کا خیال رکھیں۔
مثال کے طور پر ہمیں تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ نجران شہر سے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضورﷺ کو مدینہ میں ملنے آیا۔کچھ وقت کے بعد وہ وفد کچھ بے چین نظر آنے لگا۔چنانچہ آپؐنے ان سے اس بے چینی کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے آپؐکو بتایا کہ یہ وقت ان کی عبادت کا ہےلیکن ان کے پاس کوئی مناسب جگہ نہیں ہے جہاں پر وہ اپنی عبادات کرسکیں۔ یہ سن کر آپؐنے ان کو مدینہ میں اپنی مسجد میں ان کے طریق اورروایات کے مطابق عبادت کرنے کی دعوت دی۔اس شاندار مثال کے ذریعہ آپﷺ نے رواداری، مذہبی آزادی، اورتمام انسانیت کیلئے عبادت کی آزادی کی ایک ابدی مثال قائم کر دی۔
اس دور میں بھی حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں آنحضورؐ کی اس مثال کی پیروی کرنے کی ہدایت کی ہے کہ انسانیت کی ہمدردی ہمارا بنیادی اصول ہونا چاہئےاور ہمیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہئے اور کسی بھی مذہب کے پیروکار یا قبیلے یا گروہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کا سوچنا بھی نہیں چاہئے۔آپؑ فرماتے ہیں: ’’یہ وہ امور اور وہ شرائط ہیں جو مَیں ابتدا سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ ان تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔ اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو۔ اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگذر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو۔ اور اگر کوئی بحث کرو یا کوئی مذہبی گفتگو ہو تو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگر کوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اُٹھ جاوٴ۔ ‘‘(تبلیغ رسالت، جلد 7،صفحہ 44، بحوالہ مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ434، ایڈیشن 2019ء)
اس حوالے سے، اگرچہ احمدی خاص طور پر پاکستان میںایک مسلسل ایذا رسانی کا شکار ہیںجس کے نتیجے میں ہم نے جان و مال کا نقصان اور مذہبی حقوق کی محرومی بھی برادشت کی ہے۔تاہم ہم نے کبھی اس نفرت اور ظلم کا جواب اس طریق پر نہیں دیا اور نہ ہی دیں گے۔بلکہ ہمارا جواب ہمیشہ محبت اورامن رہا ہے۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ایک ہی بات کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کو امن کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔
آپ کو یہ بنیادی اصول ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ دنیا میں حقیقی آزادی اور پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام انسان اپنے خالق کو پہچان نہ لیں، اس کے حقوق ادا نہ کریں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا نہ ہوں۔ اللہ کرے کہ دنیا میں حقیقی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی پھیلے اور تمام مذاہب کے پیروکار آزادی کے ساتھ اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں۔
آخر پر میری دعا ہے کہ آپ کا جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب ہو۔آپ نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے والے ہوں۔آپ ہمیشہ خلافت کے ساتھ وفادار رہیں۔ اور اللہ کرے کہ آپ اسلام احمدیت کا پُر امن پیغام پورے برازیل میں پھیلانے والے ہوں۔اللہ آپ پر فضل کرے۔ (بشکریہ اخبار الفضل انٹرنیشنل 13؍دسمبر 2023ء)
…٭…٭…٭…٭…