مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ یونان 16؍ مارچ2023ء کو اپنا ساتواں سالانہ پیس سمپوزیم منعقد کر رہی ہے جس کا موضوع ’’ازلی و ابدی امن کی بنیادیں‘‘ ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ تقریب ہر لحاظ سے کامیاب و کامران ہو۔اور اس میں شامل ہونے والے تمام افراد امن کی ضرورت کو سمجھیں اور دنیا میں امن کے قیام کی خاطر خود کو وقف کر دیں۔مجھے یقین ہے کہ آپ سب بھی امید کرتے ہیں کہ حالیہ سالوں میں ہونے والے واقعات اور جنگوں کی وجہ سے جو دنیا کے امن کو نقصان پہنچا ہے اس کا اختتام ہو جائےاور ایک ایسی پر امن دنیا ابھرے جس میں تمام لوگ اور قومیں دوستانہ ماحول میں اکٹھے رہیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ہوں۔
میں ایک عرصے سے ایک بڑے پیمانے پر ہونے والی عالمی جنگ کے متعلق خطرات پر بات کر رہا ہوں۔ اور اس کے مہلک اورتباہ کن اثرات سے خبردار کر رہا ہوں۔ بدقسمتی سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس پیغام کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ دنیا اللہ تعالیٰ سے دُور جا پڑی ہےاور انہوں نے مادی فوائد اور دنیاوی خواہشات کے حصول کو ہی اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنا لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی میں اسی بے سود اور لالچ وحرص کے تتبع نے دو بار دنیا کو تباہ کن اور خوفناک عالمی جنگوں میں جھونک دیا۔ تاریخ کی ان خوفناکیوں سے کچھ سبق سیکھنےکی بجائے ایک بار پھر دنیا پر جنگ وجدل کا بھوت سوار ہو چکا ہے۔
میری دعا ہے کہ دوسروں کوزیر نگیں کرنے اور اپنے حقوق کا ڈھول پیٹنے کی بجائے قومیں اور ان کے لیڈر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے فوائد کو سمجھیں۔ اور دنیا کے مسائل کا ذمہ دار کچھ مذاہب یا کسی خاص نسل کے لوگوں کو ٹھہرانے کی بجائے ایک دوسرے کے عقائد اور روایات کیلئے برداشت پیدا کریں اور معاشرے میں اس تنوّع کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔
جب ہم بانی اسلام آنحضرتﷺ کے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہےکہ جب آپؐ نے مدینہ ہجرت کی تو آپؐ نے یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔جس کا مقصد مسلمانوں اور یہودیوں کا باہمی ہمدردی، برداشت اور برابری کے جذبات کی روح کے ساتھ آپس میں مل کر رہنا تھا اور یہ معاہدہ مدینہ میں رہنے والے مختلف لوگوں کے درمیان انسانی حقوق،حکمرانی اور امنِ عامہ کے قیام کو یقینی بنانے والا عظیم الشان سند نامہ ثابت ہوا۔ اس کی شرائط کے مطابق تمام لوگ مذہب و ملت کے فرق کے بغیر ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے کے پابند تھے۔عقائد اور اپنے اچھے برے کے اختیار کی آزادی اس معاہدے کے بنیادی جزو تھے۔درحقیقت مدینہ کے اس معاہدہ کی بنیاد عین قرآن کریم کی تعلیمات تھی۔جیسے کہ سورت نحل آیت 91میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کااور اقرباء پر کی جانے والی عطاکی طرح عطا کا حکم دیتا ہے۔‘‘
اس آیت میں قرآن دوسرے لوگوں اور قوموں سے تعلقات کی تین درجات میں درجہ بندی کرتا ہے۔سب سے پہلا اور نچلا درجہ انصاف ہے جہاں قرآن اس بات کا حکم دیتا ہےکہ ہر کسی کے ساتھ جائز اور برابری کی سطح کا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ سچائی ،دیانتداری اور انصاف کے اصول کو قائم کرنے اور اس کا بول بالا کرنےکیلئے اگر اپنے خلاف یا اپنے پیاروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو وہ گواہی دے۔
دوسرا درجہ جس کا حکم قرآن نے دیا ہے وہ یہ ہےکہ نہ صرف وہ انصاف کا قیام کرے بلکہ اس سےبھی آگے جا کر اچھائی کے طریق کو اختیار کرتے ہوئے دوسروں سے حسن سلوک کرے اور ان کے قصور معاف کر دے۔
تیسرا درجہ جو قرآن نےہمیں سکھایا ہے وہ یہ ہےکہ انسان دوسروں سے اس طرح کا سلوک کرے جیسے ایک ماں محبت سے اپنے بچے سے سلوک کرتی ہے اور اس میں کوئی بھی نفسانی خواہش شامل نہیں ہوتی۔ دوسروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا آسان نہیں ہے۔لیکن بہرحال اس درجہ کا حصول ہی ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔
سادہ الفاظ میں دوسرے نفوس کے حقوق کی ادائیگی کرنا ہی اس اسلامی تعلیم کی پنہاں حکمت ہے۔ میری دعا ہےکہ ہم انسانوں کی اچھائیوں کو دیکھنے والے ہوں اور ایک دوسرے کی طاقت اور مہارت کو اپنے بچوں کی خاطر اس دنیا کو بہتر اور پُرامن بنانے اور معاشرے کے اندر لافانی امن کی بنیاد کے بیج بونے کیلئے استعمال کرنے والے ہوں۔یقینی طور پر اس کے متباد ل کچھ نہیں سوچا جا سکتا۔
میری دلی دعا ہے کہ اللہ انسانیت پر رحم کرے اور اللہ کرے کہ دنیا کے لوگ اور خاص طور پر لیڈر اور پالیسیاں بنانے والے عقل اور سمجھ سے کام لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔اللہ آپ سب پر رحم کرے ۔
(بشکریہ اخبار الفضل انٹرنیشنل 21؍اکتوبر2023ء)