حضرت صوفی احمد جان صاحب کےسفرِ حج کے موقع پر حضرت مسیح موعودؑ کا یادگار مکتوب
1886ء میں جب حضرت صوفی احمد جان صاحب ؓحج بیت اللہ کے لئے تشریف لے جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو ایک خط میں لکھا کہ:
اس عاجز نا کارہ کی ایک عاجزانہ التماس یا درکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل الله تعالی میسر ہو تو اس مقام محمود مبارک میں اس احقر عباد اللہ کی طرف سے انہیں لفظوں سے مسکنت وغربت کے ہاتھ بحضور دل اٹھا کر گزارش کریں کہ:۔
اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ، پر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے۔ اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین! تو مجھ سے راضی ہو اور میری خطیئات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور و رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کر ا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر یک قوت اور جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار۔ اور اپنے ہی کامل متعین میں مجھے اٹھا۔ اے ارحم الر احمین! جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل اور متولی ہو جا اور سب کو اپنی دارالرضا میں پہنچا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود وسلام و برکات نازل کر۔ آمین یا رب العالمين۔ (مکتوبات احمد جلد3 صفحہ27)