حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیاہے۔ چنانچہ{لِبَاسُ التَّقْویٰ} قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اورروحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اورعہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کاربند ہوجائے ۔ امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزّت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خداتعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتاہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت {اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّ وا لْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَھْلِھَا} اس ساری امانت کوجناب الٰہی کو واپس دے دیتاہے یعنی اُس میں فانی ہو کر اُس کے راہ میں وقف کر دیتاہے … اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طورپر ہمارے سیّد، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، نبی امّی صادق اور مصدوق محمد مصطفی ﷺمیں پائی جاتی تھی۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ۱۶۱۔۱۶۲)