اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-09-03

احسان سے مراد اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں سے ہی ہمدردی نہیں بلکہ بلا تفریق تمام آدم زادوں اور اللہ کی مخلوق سے ہمدردی ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’اس بات کو بھی خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں :اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نہ اس کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادات میں اور دوسرے نوع انسان سے ہمدردی کرو اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو-آدم زاد ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی،۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ تم خود کرو۔ جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدر تم سے خوش ہوگا۔اپنے دشمنوں کو تم خدا تعالیٰ کے حوالے کرو۔ قیامت نزدیک ہے تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہئے- میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کو ان سے بہت دکھ اٹھانا پڑے گا کیونکہ جو لوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہو جاتے ہیں ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتا ہے- پس دیندار کو چاہئے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے-‘‘ (الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۷،ملفوظات جلد ۵۔ صفحہ ۱۳۰)