اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-12-04

نیک آدمی وہ ہے جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں 

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آیت قرآنی الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكٰظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
دوسری قسم ان اخلاق کی (ہے) جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا خلق ان میں سے عفو ہے یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے ، سزا دلائی جائے، قید کرایا جائے ، جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے۔پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اس کے حق میں ایصال خیر ہے۔اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے : وَ الْکٰظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران: ۱۳۵)جَزَاؤُ اا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللهِ(الشوری: ۴۱) یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہوں کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر ہو، نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقع بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو۔بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں پس جو امر محل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۵۲،۳۵۱)