اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-08-13

شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ اسباب کی پرستش بھی شرک ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو معبود و کارساز جاننا ایک نا قابلِ عفو گناہ ہے۔اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان: 14) لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِهٖ (النساء: 49) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے۔ بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبوداتِ دنیا پر زور دیا جاوے۔اِسی کا نام شرک ہے۔اور معاصی کی مثال توحقّہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقّت و مشکل کی بات نظر نہیں آتی۔ مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑنامحال ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 344 مطبوعہ ربوہ)

’’انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے؟ یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیرنے والے پرستارِ الٰہی کہلا سکتے ہیں؟ بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اٹھ جائے۔ اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو۔ اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اسی کی ذات سے وابستہ ہو۔ اور اسی کی درد میں لذت ہو۔ اور اسی کی خلوت میں راحت ہو۔ ا ور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔ اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22صفحہ 54)