ترک شر کی اخلاق میں سے رفق اور قول حسن ہے اور یہ خلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اس کا نام طلاقت یعنی کشادہ روئی ہے۔ بچہ جب تک کلام کرنے پر قادرؔ نہیں ہوتا۔ بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے۔ یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑھ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔ طلاقت ایک قوت ہے اور رِفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو محل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ کی تعلیم یہ ہےکہ
لوگوں کو وہ باتیں کہو جو واقعی طور پر نیک ہوں۔ ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔ بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیاہے وہی اچھی ہوں اور عیب مت لگائو۔ اپنے لوگوں کے برے برے نام مت رکھو۔ بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو ۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔ کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگائو جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یاد رکھو کہ ہریک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 350)
اسی طرح فرمایا:
دشمن اگر سخت کلامی کرے تو اسکے مقابل سختی کرنے سے فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ سخت الفاظ سے برکت دور ہو جاتی ہے۔ (ملفوظات جلد نہم صفحہ 273)
نیز فرمایا:
مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوےتاکہ دوسروں کے ذہن نشین ہو اور حق کا اس طرح اظہار کرنا کہ ایک کلمہ بھی باقی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈر کر حق کو چھپا لینا، کھا کینا ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ نرمی سے گفتگو کر کے پھر گرمی پر آجاتے ہیں ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ حق کو پورا پورا ادا کرنے کے واسطے ایک ہنر چاہئے۔ وہ شخص بہت بہادر ہے جو کہ ایسی خوبی سے حق کو بیان کرے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی اسے سن لیویں ۔ خدا ایسوں پر راضی ہوتا ہے ہاں یہ ضرورہے کہ حق گو سے لوگ راضی نہ ہوں اگر چہ وہ نرمی بھی کرے مگر تاہم درمیان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 225 تا 226)