اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-11-13

میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں

قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُوْرِ دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جاوے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا ۔ مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہوگی ۔
(الحکم جلد6 نمبر31 مورخہ31-اگست 1902 صفحہ2)
میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ بھلائی اور فتح اسی کی ہے... یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر میں کیوں کر اس کو باور کروں مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالی تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راست باز کو سزادے؟ اگر ایسا ہو تو پھر دنیا میں کوئی شخص سچ بولنے کی جرأت نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اُٹھ جاوے۔ راستباز تو زندہ ہی مرجا ویں ۔ اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے ۔ خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میںوہ سزا پا لیتے ہیں۔
( الحکم جلد10 نمبر17 مورخہ17-مئی1906ء صفحہ4تا5)

 

(حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر 204تا 205)