اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-09-25

جو لوگ خدا کے پیارے ہوتے ہیںان پر خدا کی طرف سے ضرور تکالیف اور ابتلا آیا کرتے ہیں

ابتلا
اس بات پر ذکر کرتے ہوئے کہ مومنین پر تکالیف اور ابتلاآیا کرتے ہیں۔ فرمایا:
ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی لڑکی کا آنحضرتؐکے ساتھنکاح کے واسطے عرض کیا او رمنجملہ اس لڑکی کی تعریف کے ایک یہ بات بھی عرض کی کہ وہ اتنی عمر کی ہوئی ہے، مگر آج تک اس پر کوئی بیماری وارد نہیں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ خدا کے پیارے ہوتے ہیں۔ ان پر خدا کی طرف سے ضرور تکالیف اور ابتلا آیا کرتے ہیں۔ ‘‘
(احباب میں سے ایک کو مخالفین کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی ہیں۔ اس نے اپنا حال عرض کیا۔)
فرمایا: ’’آپ نے بہت تکالیف اُٹھائی ہیں۔ یہ بات آپ میں قابلِ تعریف ہے جس قدر ابتلا ہو اہے اسی قدر انعام بھی ہوگا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشـرح: 7)
مخالفین سے برتاؤ
بعض مخالفین جو ہمارے دوستوں کے ساتھ سختی کرتے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اس کے ذکر میں اپنے دوستوں کو نرمی اور درگزر اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’مخالفوں کے مقابلہ میں جوش نہیں دکھانا چاہیے۔ خصوصاً جو جوان ہیں ان کو مَیں یہ نصیحت کرتا ہوں۔ ضروری ہے کہ تم جلدی جلدی میرے پاس آؤ۔ معلوم نہیں کہ تم کتنا زمانہ میرے بعد بسرکرو گے۔ پا س رہنے میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ انسان اگر رُو بخدا ہو تو وہ تفسیر مجسم ہوتاہے او رپاس رہنے میں انسان بہت سی باتیں دیکھ لیتا ہے اور سیکھ لیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 91،92، ایڈیشن 2018، قادیان)