استغفار اور یقین
ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے لیے دعا کریں کہ میرے اولاد ہوجائے۔ آپؐنے فرمایا کہ :
’’استغفار بہت کرو۔ اس سے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اولاد بھی دے دیتاہے۔ یادرکھو یقین بڑی چیزہے۔ جو شخص یقین میں کامل ہوتا ہے، خداتعالیٰ خود اس کی دستگیری کرتا ہے۔‘‘
ایک امتحان والے آدمی کے متعلق دعا کے واسطے عرض کی گئی فرمایا ’’دعا تو کی جاتی ہے مگر بعض دفعہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے واسطے کوئی اور نعمت رکھی ہوئی ہوتی ہے اور دعا ظاہر الفاظ میں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی اس میں ایک ابتلا ہوتا ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے واسطے جو بظاہر نیک ہوتے ہیںکیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو نیک تھے ہم پر ابتلا یہ کیوں آیا۔‘‘
خدا تعالیٰ پر بھروسہ
فرمایا: ’’ہم کو توخدا پر اتنا بھروسہ ہے کہ ہم تو اپنے لیے دعا بھی نہیں کرتے، کیونکہ وہ ہمارے حال کو خوب جانتا ہے۔ حضر ت ابراہیمؑکو جب کفار نے آگ میں ڈالا تو فرشتوں نے آکر حضرت ابراہیم ؑسے پوچھا کہ آپ کو کوئی حاجت ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا بَلٰی۔ وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ لَا۔ ہاں حاجت تو ہے ،مگر تمہارے آگے پیش کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ اچھا خداتعالیٰ کے آگے ہی دعا کرو۔ تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا عِلْمُہٗ مِنْ حَالِیْ حَسْبِیْ مِنْ سَوَالِیْ۔ وہ میرے حال سے ایسا واقف ہے کہ مجھے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 89،91، ایڈیشن 2018، قادیان)