اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-08-28

خدا نے مخالفین سے سلب طاقت اور سلب علم کر لیا ہے، مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہرگز نہ لکھ سکیں گے

ایک عظیم معجزہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:’’آج رات کو الہام ہوا مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَاءِ یعنی اس تفسیر نویسی میں کوئی تیرامقابلہ نہ کر سکے گا۔ خدا نے مخالفین سے سلب طاقت اور سلب علم کر لیا ہے، اگرچہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص یعنی مہر شاہ کی طرف ہے لیکن خدا نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کر کے ایک ہی کا حکم رکھا ہے تاکہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو کہ تمام مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہرگز نہ لکھ سکیں گے۔ ‘‘
فرمایا: ’’انسان کا کام انسان کر سکتا ہے۔ ہمارے مخالف انسان ہیں اور عالم اور مولوی کہلاتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ جو کام ہم نے کیا وہ نہیں کر سکتے۔ یہی ایک معجزہ ہے۔ نبی اگر ایک سونٹا پھینک دے اور کہے کہ میرے سوا کوئی اس کو اٹھا نہ سکے گا تو یہ بھی ایک معجزہ ہے، چہ جائیکہ تفسیر نویسی تو ایک علمی معجزہ ہے۔ ‘‘
فرمایا:’’قرآن شریف کے معجزہ فصاحت و بلاغت کے جواب میں ایک دفعہ پادری فنڈر نے حریری اور ابوالفضل اور بعض انگریزی کتابوں کو پیش کیا تھا۔ مدت کی بات ہے، ہم نے اس وقت بھی یہی سوچا تھا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اول تو ان مصنفین کو کبھی یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ ان کا کلام بے مثل ہے، بلکہ وہ خود اپنی کم مائیگی کا ہمیشہ اقرار کرتے رہے ہیں اور قرآن شریف کی تعریف کرتے ہیں۔ دوسرا ان لوگوں کی کتابوں میں معنی الفاظ کے تابع ہوکرچلتا ہے۔ صرف الفاظ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ قافیہ کے واسطے ایک لفظ کے مقابل دُوسرا لفظ تلاش کیا جاتا ہے اور کلام میں حکمت اور معارف کا لحاظ نہیں ہوتا اور قرآن شریف میں التزام ہے حق اور حکمت کا۔ اصل میں اس بات کا نباہنا کہ حق اور حکمت کے کلمات کے ساتھ قافیہ بھی درست ہو، یہ بات تائید الٰہی سے حاصل ہوتی ہے، ورنہ انسانوں کے کلام ایسے ہوتے ہیں جیساکہ حریری وغیرہ۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 84 تا 85، ایڈیشن 2018، قادیان)