یاد رکھو کہ خدا سے محبتِ تام نفل ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ پھر میں ایسے مقرب اور مومن بندوں کی نظر ہو جاتا ہوں،یعنی جہاں میرا منشاء ہوتا ہے، وہیں ان کی نظر پڑتی ہے۔ صادق موت کا بھروسا نہیں رکھتا اور خدا سے غافل نہیں ہوتا۔
ان کے کان ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں اللہ کی یا اس کے رسول کی یا اس کی کتاب کی تحقیر اور ذلت ہوتی ہے، وہاں سے بیزار اور ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ سن نہیں سکتے اور کوئی ایسی بات جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکم کے خلاف ہو نہیں سنتے اور ایسی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔ ایسا ہی فسق وفجور کی باتیں اور سماع کے ناپاک نظاروں اور آوازوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ نامحرم کی آواز سن کر بُرے خیالات کا پیدا ہونا زَنَا الْاُذُن ہے۔ اسی لئے اسلام نے پردہ کی رسم رکھی ہے۔
مسیح کا یہ کہنا کہ زنا کی نظر سے نہ دیکھ، کوئی کامل تعلیم نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں کامل تعلیم یہ ہے جو مبادی گناہ سے بچاتی ہے۔ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النّور:۳۱) یعنی کسی نظر سے بھی نہ دیکھیں، کیونکہ دل اپنے اختیار میں نہیںہے۔ یہ کیسی کامل تعلیم ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہو جاتا ہوں اس کے ہاتھ۔ بعض وقت انسان ہاتھوں سے بہت بے رحمی کرتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ مومن کے ہاتھ بے جا طور پر اعتدال سے نہیں بڑھتے۔ وہ نا محرم کو ہاتھ نہیں لگاتے۔
پھر فرماتا ہے کہ اس کی زبان ہو جاتا ہوں۔ اسی پر اشارہ ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (النجم:۴) اسی لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تھا اور آپ کے ہاتھ کے لئے فرمایا مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ( الانفال :۱۸) غرض نفل کے ذریعہ انسان بہت بڑا درجہ اور قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اولیاء اللہ کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر مَنْ عَادَلِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزْتُہٗ بِالْـحَرْبِ جو میرے ولی کا دشمن ہو ،میں اس کو کہتا ہوں کہ اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔ حدیث میں آیا ہے کہ خد اشیرنی کی طرح جس کا بچہ کوئی اٹھا لے جاوے اس پر جھپٹتا ہے۔
غرض انسان کو چاہیے کہ وہ اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ سعی کرتا رہے۔ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے کہ کب آجاوے۔ مومن کو مناسب ہے کہ وہ کبھی غافل نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ80 تا 81، ایڈیشن 2018، قادیان)