اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-07-17

جس قدر قربِ الٰہی انسان حاصل کرے گا اسی قدر قبولیت دعا کے ثمرات سے حصہ لے گا جس قدر وہ دُور ہوتا ہے اس قدر حجاب اور فاصلہ اس کی دعا ؤں کی قبولیت میں ہوتا جاتا ہے

قبولیتِ دعا کی شرط
یہ خوب یاد رکھو کہ انسان کی دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غفلت، فسق و فجور کو چھوڑ دے۔ جس قدر قربِ الٰہی انسان حاصل کرے گا اسی قدر قبولیت دعا کے ثمرات سے حصہ لے گا۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌطاُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِلا فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (البقرۃ :۱۸۷) اور دوسری جگہ فرمایا ہےکہ وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ (سبا:۵۳) یعنی جو مجھ سے دُور ہواس کی دعا کیوں کر سنوں۔ یہ گویا عام قانون قدرت کے نظارہ سے ایک سبق دیا ہے۔ یہ نہیں کہ خدا سن نہیں سکتا۔ وہ تو دل کے مخفی در مخفی ارادوں اور ان ارادوں سے بھی واقف ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ مگر یہاں انسان کو قرب الٰہی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جیسے دُور کی آواز سنائی نہیں دیتی اُسی طرح پر جو شخص غفلت اور فسق وفجور میں مبتلا رہ کر مجھ سے دُور ہو تا جاتا ہے، جس قدر وہ دُور ہوتا ہے اس قدر حجاب اور فاصلہ اس کی دعا ؤں کی قبولیت میں ہوتا جاتا ہے۔
نوافل کی حقیقت
نادان انسان بعض وقت عدم قبول دعا سے مرتد ہو جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرب ہوجاتا ہے۔ ایک فرائضہوتے ہیں دوسرے نوافل۔ یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ تا فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو نوافل سے پوری ہو جاوے۔
لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔
انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔ قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔
نوافل متمم فرائض ہوتے ہیں۔ نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ اب پورا ہو جائے۔ یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قربِ الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلّل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرب کی وجہ میں اَیّامِ بِیْض کے روزے، شوال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ79 تا 80، ایڈیشن 2018، قادیان)