اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2026-08-06

خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے۔ لیکن جو اُس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خو اہشو ں اور لذّتو ں کو ہی جنّت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے۔ اور سعید آدمی خدا کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنّت ہوتی ہے۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ دنیا فا نی ہے اور سب مر نے کے لیے پیدا ہو ئے ہیں۔ آخر ایک وقت آجا تا ہے کہ سب دو ست، آشنا، عز یز واقارب جد اہو جا تے ہیں۔ اس وقت جس قد ر نا جائز خو شیوں اور لذّتوں کو را حت سمجھتا ہے وہ تلخیو ں کی صو رت میں نمو دا ر ہو جا تی ہیں۔ سچّی خو شحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گویا زہر کا پیالہ پینا ہے۔متقی کے لیے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًا وَ یَرْ زُ قْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ (سورۃ الطلاق3-4) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے۔ لیکن حصولِ تقوی کیلئے نہیں چاہئے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔ تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے ملے گا۔ خد اتعالیٰ رحیم وکریم ہے۔ تقویٰ اختیار کرو جو چاہو گے وہ دے گا‘‘۔ (ملفوظات جلدسوم صفحہ 90۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)