اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-07-03

ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کے لئے ایک مجدّد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے اِس فخر میں ہمارے نبی صلعم کیساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپنے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپکے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی

اعلیٰ درجہ کا یکرنگ صاف باطن نبی
واقعات حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کیلئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنیوالے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔(براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ111)
جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے
وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہوسکے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار باطنی ان کی امت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں اور سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ امت محمدیہ پر ہوتا ہے، دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہےکیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوسکتا ہے اور ہمیشہ روشن ہوتا ہے، وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہ ہوسکے۔ دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 269، حاشیہ درحاشیہ نمبر1)
ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ
جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا
اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی
یہ لیلۃ القدر اگرچہ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلۃ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت ﷺکی بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نُور کے نزول کو چاہتی تھی اور اُسی ظُلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کرکے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں۔ سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہوگئی اور دنیا نے اس سےایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہوگا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 418، حاشیہ نمبر11)
مکڑی نے جالے بنائے -اور کبوتری نے انڈے دئیے
غارِ ثور میں آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا معجزہ جو اللہ تعالیٰ نے دکھایا اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجود یکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت ﷺ معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت ﷺ کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذن الٰہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑکر ناکام واپس چلے گئے۔ (سرمہ چشم آریہ رُوحانی خزائن جلد 2 صفحہ 66، حاشیہ)
آنحضرتﷺ اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھکر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلیٰ و اصفا تھے
چونکہ آنحضرتﷺ اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہٗ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہورہی ہے۔ (سرمہ چشم آریہ رُوحانی خزائن جلد 2 صفحہ 71، حاشیہ)
جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے
جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اُتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا
اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدّد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اِس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپؐظاہر ہوئے آپؐفوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اُتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے اُن سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلعم کے نصیب نہیں ہوئی۔ یہی ایک بڑی دلیل آنحضرتؐکی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جب کہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعًا ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بُت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے۔ اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایااور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت اُن میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔ وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔ پس بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار وبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تاخّر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہوگئے اور چونکہ آپ صفاتِ الٰہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفاتِ جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپ کے دونام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اِسی غرض سے ہیں اور آپ کی نبوت عامہ میں کوئی حصہ بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتدا سے تمام دنیا کے لئے ہے۔ (لیکچر سیالکوٹ رُوحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206)