اگر اس محرّف مبدل انجیل کی نسبت جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے خاموش رہکر اس فقرہ کو صحیح بھی سمجھا جائے کہ حضرت مسیح نے ضرور یہ دعویٰ کیا ہے کہ قیامت اور زندگی مَیں ہوں تو اس سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ ایسا دعویٰ جو اپنے ساتھ اپنا ثبوت نہیں رکھتا کسی کے لئے موجب فضلیت نہیں ہوسکتا۔ اگر ایک انسان ایک امر کی نسبت دعویٰ تو نہ کرے مگر وہ امر کر دکھائے تو اس دوسرے انسان سے بدرجہا بہتر ہے کہ دعویٰ تو کرے مگر اِثبات دعویٰ سے عاجز رہے۔ انجیل خود شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح کا دعویٰ اوروں کی نسبت تو کیا خود حواریوں کی حالت پر نظر ڈالنے سے ایک معترض کی نظر میں سخت قابل اعتراض ٹھہرتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنے حواریوں کو بھی نفسانی قبروں میں ہی چھوڑ گئے۔ اور جب ہم حضرت مسیح کے اِس دعویٰ کو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے دعویٰ سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس دعویٰ اور اس دعویٰ میں ظلمت اور نور کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ حضرت مسیح کا دعویٰ عدم ثبوت کے ایک تنگ و تاریک گڑھے میں گرا ہوا ہے اور کوئی نور اپنے ساتھ نہیں رکھتا لیکن ہمارے نبی ﷺ کا دعویٰ آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور آنحضرت ﷺ کی جاودانی زندگی پر یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت ممدوح کا فیض جاودانی جاری ہے اور جو شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی کرتا ہے وہ بلاشبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اُس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مددیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہوجاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفرد انسان ہوجاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتاہے اور اپنے اسرار خاصہ اس پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے حقائق و معارف کھولتا ہے اور اپنی محبت اور عنایت کے چمکتے ہوئے علامات اس میں نمودار کردیتا ہے اور اپنی نصر تیں اس پر اتارتا ہے اور اپنی برکات اس میں رکھ دیتا ہے اور اپنی ربوبیت کا آئینہ اس کو بنا دیتا ہے اس کی زبان پر حکمت جاری ہوتی ہے اور اس کے دل سے نکات لطیفہ کے چشمے نکلتے ہیں اور پوشیدہ بھید اس پر آشکار کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان تجلی اس پر فرماتا ہے اور اس سے نہایت قریب ہوجاتا ہے اور وہ اپنی استجابت دعائوں میں اور اپنی قبولیتوں میں اور فتح ابوابِ معرفت میں اور انکشافِ اسرارِ غیبیہ میں اور نزولِ برکات میں سب سے اوپر اور سب پر غالب رہتا ہے۔ چنانچہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر انہیںامور کی نسبت اور اسی اتمام حجت کی غرض سے کئی ہزار رجسٹری شدہ خط ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے نامی مخالفوں کی طرف روانہ کئے تھے تا اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ یہ روحانی حیات بجز اِتباع خاتم الانبیاء ﷺ کے کسی اور ذریعہ سے بھی مل سکتی ہے تو وہ اس عاجز کا مقابلہ کرے اور اگر یہ نہیں تو طالب حق بن کر یکطرفہ برکات اور آیات اور نشانوں کے مشاہدہ کے لئے حاضر آوے لیکن کسی نے صدق اور نیک نیتی سے اس طرف رخ نہ کیا اور اپنی کنارہ کشی سے ثابت کردیا کہ وہ سب تاریکی میں گرے ہوئے ہیں اور حال میں جو ہمارے بعض ہم مذہب بھائی مسلمان کہلا کر اس روشنی سے منکر ہیں نہ قبول کرتے اور نہ صدق دل سے آتے اور آزماتے ہیں اور کافر کہنے پر کمر باندھ رہے ہیں ان سب امور کا اصل باعث نابینائی اور بخل اور شدت تعصب ہے اور ایسے لوگوں کا اسلام میں ہونا اسلام کی ہتک کا موجب نہیں۔اور یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کے امراض روحانی کیوں دور نہیں ہوئے اور یہ لوگ کیوں قبروںمیں سے نہ نکلے کیونکہ اگر کوئی آفتاب کی طرف سے اپنے گھر کے کواڑ بند کر کے ایک تاریک گوشہ میں بیٹھ جائے تو اگر اس تک آفتاب کی روشنی نہ پہنچے تو یہ آفتاب کا قصور نہیں بلکہ خود اس شخص کا قصور ہے جس نے ایسا کیا۔ ماسوا اس کے اگرچہ یہ لوگ کیسے ہی محجوب اور دُوراز حقیقت ہیں مگر پھر بھی علانیہ توحید کے قائل ہیں۔ کسی انسان کو خدا نہیں بناتے اور بہ برکت توحید اپنے اندر ایک نور بھی رکھتے ہیں اور کسی قدر زندگی کی حرارت ان میں موجود ہے۔ اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل مر گئے اگرچہ خطرناک حالت میں ہیں۔ اگر کوئی عیسائی یا ہندو ہماری طرف سے منہ پھیر کر ایسی نکتہ چینی کرے تو وہ سخت متعصب یا سخت نادان ہے۔ باغ میں کانٹوں کا ہونا بھی ضروری ہے، جہاں پھول ہیں کانٹے بھی ہوں گے، مگر فرقہ مخالفہ میں تو سراسر کانٹوں کا ہی انبار نظر آتا ہے۔ عیسائیوں کی یہ سراسر بے ہودہ باتیں ہیں کہ مسیحؑ روحانی قیامت تھا اور مسیح میں ہو کر ہم جی اٹھے۔ حضرات عیسائی خوب یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہونا سرِمُو ثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوںسے اوّل درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔ نہ ایمانی رُوح ان میں ہے نہ ایمانی رُوح کی برکت، بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پرہیز کرنا ہے، وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا اور ایک اپنے جیسے عاجز اور ناتوان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کررہے ۔
(آئینہ کمالات اسلام، رُوحانی خزائن جلد 5، صفحہ 220 و 223)