اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-06-19

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میںکوئی مرتد نہ ہوا دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے بات اصل میں یہ ہے کہ مربی کے قویٰ کا اثر ہوتا ہے جس قدر مربی قوی التاثیر اور کامل ہو گا، ویسی ہی اس کی تربیت کا اثر مستحکم اور مضبوط ہو گا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوئے تو مکہ کے لوگ ایسے تھے جیسے بچہ دودھ پینے کا محتاج ہوتاہے، گویا ربوبیت کے محتاج تھے۔ وحشی اور درندوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماںکی طرح دودھ پلا کر ان کی پرورش کی۔ پھر رحمانیت کا پَرتَو کیا۔ وہ سامان دیئے کہ جن میں کوشش کو کوئی دخل نہ تھا۔ قرآن کریم جیسی نعمت اور رسول کریم ؐجیسا نمونہ عطا فرمایا۔ پھر رحیمیت کا ظہور بھی دکھلایا کہ جو کوششیں کیں ان پر نتیجے مترتب کیے۔ ان کے ایمانوں کو قبول فرمایا اور نصاریٰ کی طرح ضلالت میں نہ پڑنے دیا،بلکہ ثابت قدمی اور استقلال عطا فرمایا۔ کوشش میں یہ برکت ہوتی ہے کہ خدا ثابت قدم کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میںکوئی مرتد نہ ہوا۔ دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے۔ حضرت مسیح کے تو ایک ہی دن میں پانسو مرتد ہو گئے اور جن پر بڑا اعتبار اور وثوق تھا، ان میں سے ایک نے تو تیس درہم لے کر پکڑوا دیا اور دوسرے نے تین بار لعنت کی۔
بات اصل میں یہ ہے کہ مربی کے قویٰ کا اثر ہوتا ہے۔ جس قدر مربی قوی التاثیر اور کامل ہو گا، ویسی ہی اس کی تربیت کا اثر مستحکم اور مضبوط ہو گا۔
یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک اور ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لئے اپنی جان، مال تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے۔ اور مسیح کے نقص کا یہ بد یہی ثبوت ہے کہ جو جماعت طیار کی، وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور لعنت کرنے والے ثابت ہوئے۔ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہؓ میں ثباتِ قدم اور استقلال تھا۔ پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کا عملی ظہور صحابہؓ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے اُن میں اور اُن کے غیروں میںفرقان رکھ دیا۔ یا جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں اُن کو دی گئی یہ اُن کی دنیا میں جزا تھی۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ71 تا 72، ایڈیشن 2018، قادیان)