اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-06-05

مسلمان بننا آسان نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرلو، مطمئن نہ ہو

سعادتِ عظمیٰ کے حصول کی راہ
سعادتِ عظمیٰ کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے جیسا کہ اس آیت میں صاف فرمادیا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْص يُحْبِبْكُمُ(اٰل عـمران:۳۲) یعنی آؤ میری پیروی کرو، تاکہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔ اگر حقیقت مذہب یہی ہے ، تو پھر نماز کیا چیز ہے اور روزہ کیا چیز ہے۔ خود ہی ایک بات سے رُکے اور خود ہی کرلے۔ اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سررکھ دے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرامرنا، میرا جینا، میری نماز، میری قربانیاں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سب سے پہلے مَیں اپنی گردن رکھتا ہوں۔ یہ فخر اسلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کواولیت کا ہے نہ ابراہیم کو نہ کسی اور کو۔ یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کُنْتُ نَبِیًّا وَّاٰدَمُ بَیْنَ الْمَآءِ وَالطِّیْنِ۔ اگرچہ آپؐسب نبیوں کے بعد آئے، مگر یہ صدا کہ میر امرنا اور میرا جینا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، دُوسرے کے منہ سے نہیں نکلی۔
مسلمان کی حقیقت
اب دنیا کی حالت کودیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور یا اب دنیامیں مسلمان موجود ہیں۔ کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے؟ تو کہتا ہے۔ الحمدللہ۔ جس کاکلمہ پڑھتا ہے، اس کی زندگی کا اُصول تو خدا کے لئے تھا، مگر یہ دنیا کے لئے جیتا اور دنیا ہی کے لئے مرتا ہے اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہوجاوے، دنیا ہی اس کی مقصود ، محبوب اور مطلوب رہتی ہے پھر کیونکر کہہ سکتا ہے کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں۔
یہ بڑی غورطلب بات ہے۔ اس کو سرسری نہ سمجھو۔ مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرلو، مطمئن نہ ہو۔
یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے۔ اگر بدوں اتباع مسلمان کہلاتے ہو۔ نام اور چھلکے پر خوش ہوجانا دانشمند کاکام نہیں ہے۔ لکھا ہے کہ کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہوجا۔ اس نے کہا کہ تو صرف نام ہی پر خوش نہ ہوجا۔ مَیں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اورشام سے پہلے ہی اُس کو دفن کرآیا۔ پس حقیقت کوطلب کرو۔ نِرے ناموں پر راضی نہ ہوجاؤ۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی کا امتی کہلا کرکافروں کی سی زندگی بسرکرے۔ تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھاؤ، وہی حالت پیدا کرو اور دیکھو کہ اگر وہ حالت نہیں ہے تو تم طاغوت کے پیرو ہو۔
غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہونی چاہیے،کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے۔ کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا جب تک رسول اللہ کی سچی اطاعت اور متا بعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے؟پس تم وہ اسلام اپنے اندر پیدا کرو، تاکہ تم خدا کے محبوب بنو۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ70-69، ایڈیشن 2018، قادیان)