اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-05-29

یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح پر ہے کہ انجام خدا کے بندوں کا ہی ہوتا ہے قتل کی سازشیں ، کفر کے فتوے، مختلف قسم کی ایذائیں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں

انسان کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک بدصحبت بھی ہے۔ دیکھو ابوجہل خود تو ہلاک ہوا، مگر اور بھی بہت سے لوگوں کو لے مرا جو اس کے پاس جاکر بیٹھا کرتے تھے۔ اُس کی صحبت اور مجلس میں بجز استہزا اور ہنسی ٹھٹھے کے اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ یہی کہتے تھے اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ میاں یہ دوکانداری ہے۔
اب دیکھواوربتلاؤ کہ وہ جس کو دوکاندار اورٹھگ کہاجاتا تھا، ساری دنیا میں اسی کانُور ہے یا کسی اور کابھی۔ ابوجہل مرگیا اور اس پر لعنت کے سواکچھ نہ رہا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بلند کو دیکھو کہ شب وروز بلکہ ہروقت درودپڑھا جاتا ہے اور ۹۹ کروڑ مسلمان اس کے خادم موجود ہیں۔ اگر اب ابوجہل پھر آتا،تو آکر دیکھتا کہ جس کو اکیلا مکہ کی گلیوں میں پھرتا دیکھتاتھا، اور جس کی ایذادہی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتا تھا، اس کے ساتھ جب ۹۹ کروڑ انسانوں کے مجمع کو دیکھتا حیران رہ جاتا اور یہ نظارہ ہی اس کو ہلاک کردیتا۔ یہ ہے ثبوت آپؐکی رسالت کی سچائی کا۔ اگر اللہ تعالیٰ ساتھ نہ ہوتا، تو یہ کامیابی نہ ہوتی۔ کس قدر کوششیں اور منصوبے آپؐکی عداوت اور مخالفت کے کئے، مگرآخر ناکام اور نامراد ہونا پڑا۔ اس ابتدائی حالت میں جب چند آدمی آپؐکے ساتھ تھے کون دیکھ سکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان دنیا میں ہوگا اور ان مخالفوں کی سازشوں سے صحیح و سلامت بچ کر کامیاب ہوجائے گا۔ مگر یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح پر ہے کہ انجام خدا کے بندوں کا ہی ہوتا ہے۔ قتل کی سازشیں ، کفر کے فتوے، مختلف قسم کی ایذائیں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے
يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (الصّف:۹) یہ شریر کافر اپنے مُنہ کی پھونکوں سے نور اللہ کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے۔ کافر بُرا مناتے رہیں۔
منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں؟ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا،کسی نے دوکاندار اور کافر، بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھادیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے، نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے لوگوں کے لشکر آسمان پر ہوتے ہیں۔ منکر اور زمینی لوگ اُن کو دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ اگر ان کو معلوم ہو جاوے اور وہ ذرا سا بھی دیکھ پائیں تو ہیبت سے ہلاک ہوجائیں، مگر یہ لشکر نظر نہیں آسکتا جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی چادر کے نیچے نہ آئے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ68 تا 69، ایڈیشن 2018، قادیان)