اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-05-08

لوگ روپیہ پیسہ کے حساب میں ایسے غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ کچھ حد نہیں، مگرعمر کا حساب کبھی بھی نہیں کرتے بدبخت ہے وہ انسان جس کو عمر کے حساب کی طرف توجہ نہ ہو

موت ایک یقینی شے ہے جس سے ہرگز ہرگز کوئی بچ نہیں سکتا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ روپیہ پیسہ کے حساب میں ایسے غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ کچھ حد نہیں، مگرعمر کا حساب کبھی بھی نہیں کرتے۔ بدبخت ہے وہ انسان جس کو عمر کے حساب کی طرف توجہ نہ ہو۔ سب سے ضروری اور حسا ب کے لائق جو شے ہے وہ تو عمر ہی ہے۔ ایسانہ ہو کہ موت آجائے اور یہ حسرت لے کر دنیا سے کُوچ کرے۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہوجاتی ہے۔ جہنم کی زندگی بھی یہاں ہی سے شروع ہوجاتی ہے، جب انسان حسرت کے ساتھ مرتا ہے تو بہت بڑے جہنم میں ہوتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ اب چلا۔ ہیضہ، طاعون، محرقہ، خفقان یا کسی اور شدید مرض میںمبتلا ہوتا ہے، تو موت سے پہلے ایک موت وارد ہوجاتی ہے، جو دل اور رُوح کو فرسودہ کردیتی ہے اور وہ بھی حسرت ہوتی ہے۔ بعض امراض ایسے ہیں کہ دو منٹ بھی دَم لینے نہیں دیتے اور جھٹ پٹ کام تمام کردیتے ہیں۔ جس نے ایک دن بھی مطالعہ کیا کہ مَیں مرنے والا جانور ہوں وہ اس عذاب سے بچنے کی فِکر میں ہوا جو انسان کو حسرت کے رنگ میں کھا جاتا ہے۔
ہمارے عزیزوں میں سے ایک کو قولنج ہوئی۔ آخر پیشاب بند ہوکرسیاہ رنگ کی ایک قے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی گردن لٹک گئی۔ اس وقت کہا کہ اب معلوم ہوا کہ دنیا کچھ چیز نہیں۔ یقیناً یادرکھو کہ دنیا کوئی چیز نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہم سب جو اس وقت یہاں موجود ہیں، سالِ آئندہ میں بھی ضرور ہوں گے۔ بہت سے ہمارے دوست جو پچھلے سال موجود تھے، آج نہیں ہیں۔ اُنہیں کیا معلوم تھا کہ اگلے سال ہم نہ ہوں گے۔ اسی طرح اب کون کہہ سکتا ہے کہ ہم ضرورہوں گے اور کس کو معلوم ہے کہ مرنے والوں کی فہرست میں کس کس کانام ہے۔ پس بڑا ہی مُورکھ ہے اور نادان ہے وہ شخص جو مرنے سے پہلے خدا سے صُلح نہیں کرتا اور جھوٹی برادری کونہیں چھوڑتا۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ67 تا 68، ایڈیشن 2018، قادیان)