رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک کامل نمونہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور محبوب الٰہی بننے کا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ (آل عـمران:۳۲) یعنی ان کو کہہ دو کہ تم اگر چاہتے ہو کہ محبوبِ الٰہی بن جاؤ اور تمہارے گنا ہ بخش دیئے جاویں،تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔
کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شے ہے جو رحمت الٰہی سے نا اُمید ہونے نہیں دیتی۔ گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہو گا کہ تم میری پیروی کرو۔
اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت ومشقت اور جپ تپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قربِ الٰہی کا حق دار نہیں بن سکتا۔ انوار و برکات الٰہیہ کسی پر نازل نہیں ہو سکتی جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔ اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے۔ اس کو وہ نور ایمان،محبت اور عشق دیا جاتا ہے،جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کا موجب ہوتا ہے۔ اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے اور نفسانی جوش وجذبات کی تنگ وتاریک قبروںسے نکال دیا جاتا ہے۔ اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْـحَاشِـرُ الَّذِیْ یُـحْشَـرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ وہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیںہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن شریف کی یہ آیت صاف طور پر اور پکار کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ملتی ہے اور وہ تمام لوگ جو بخل اور عناد کی وجہ سے نبی کریمؐ کی متا بعت سے سر کش ہیں، وہ شیطان کے سایہ کے نیچے ہیں۔ اس میں اس پاک زندگی کی روح نہیں ہے۔ وہ بظاہر زندہ کہلاتا ہے لیکن مردہ ہے جبکہ شیطان اس کے دل پر سوار ہے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ66 تا 67، ایڈیشن 2018، قادیان)