حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا سِرّ تھا۔ ابو جہل نے تلاش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔ اس وقت حضرت عمرؓ بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے اور شوکت رکھتے تھے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمرؓ اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ ﷺ کوشہید کرنے کے لئے جاتے ہیں، دوسرے وقت وہی عمر رضی اللہ عنہ اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔ وہ کیا عجیب زمانہ تھا۔ غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔ اس تحریر کے بعد آپؐکی تلاش اور تجسس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے کہ کہیں تنہا مل جائیں تو قتل کر دوں۔ لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔ جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کی آواز آتی ہوئی معلوم ہوئی اور وہ آنحضرت ﷺ ہی کی آواز تھی۔ اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے کہ وہ ادھر ہی کو آرہی ہے حضرت عمر اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے تو تلوار مار کر سر مبارک تن سے جدا کر دوںگا۔ آپؐنے آتے ہی نماز شروع کر دی۔ پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمر بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعا ئیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا یہاں تک کہ آنحضرتؐ نے یہ بھی کہا کہ سَـجَدَ لَکَ رُوْحِیْ وَجَنَانِیْ یعنی اے میرے مولیٰ میری روح اور میرے دل نے بھی سجدہ کیا۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان دعا ؤں کو سن سن کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔ آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔ میں نے آنحضرتؐکی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچاہے اور ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ مگر نفسِ امّارہ بُرا ہوتا ہے۔ جب آپ نماز پڑھ کر نکلے، میں پیچھے پیچھے ہو لیا۔ پاؤں کی آہٹ جو آپؐکو معلوم ہوئی، رات اندھیری تھی، آنحضرت ﷺنے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ عمر۔ آپؐنے فرمایا کہ اے عمر! نہ تُو رات کو پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ دن کو۔ اس وقت مجھے رسول اللہ ﷺ کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرتؐبد دعا کریں گے۔ میں نے عرض کیا یا حضرت!بد دعا نہ کریں۔
حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ وہ وقت اور وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔ یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا۔
اب سوچو کہ اس تضرع اور بُکا میں کیسی تلوار مخفی تھی کہ جس نے عمر جیسے انسان کو جو قتل کے لیے معاہدہ کرکے آتا ہے، اپنی ادا کا شہید کر لیا۔ اس توجہ اور زاری میں ایسی تلوار ہوتی ہے جو سیف وسنان سے بڑھ کر کام کرتی ہے۔ غرض وہ زمانہ آنحضرت ﷺکی مکی زندگی کاا سم احمد کے ظہور کا زمانہ تھا، اس لئے مکہ میں عاشقانہ رنگ کا جلوہ دکھایا۔ اپنے آپ کو خاک میں ملا دیا اور ہزاروں موتیں اپنے آپ پر وارد کر لیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس جوش ،وفا،تضرع،اور دعا وبکا کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ ان موتوں کے بعد وہ قوت وہ زندگی آپؐکو ملی کہ ہزاروں لاکھوں مردوں کے زندہ کرنے والا ٹھہرے اور حاشر الناس کہلائے اور ابتک اپنی قوت قدسی کے زور سے کروڑہا مُردوں کو زندہ کر رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ64 تا 65، ایڈیشن 2018، قادیان)