اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-04-17

یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں، دکھ دیئے جاتے ہیں، مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرتِ الٰہی کو جذب کریں

یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں۔ دکھ دیئے جاتے ہیں۔ مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ نصرتِ الٰہی کو جذب کریں۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐکی مکی زندگی کا زمانہ مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے۔ چنانچہ مکہ میں 13برس گزرے اور مدینہ میں دس برس۔ جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے ہرنبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا۔ مکّار، فریبی، دکاندار اور کیا کیا کہا گیا ہے۔ کوئی بُرا نام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا۔ وہ نبی اور مامور ہر ایک بات کی برداشت کرتے اور ہر دکھ کو سہ لیتے ہیں لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔ اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا ہے اور ہر قسم کا بُرا نام آپ کا رکھا گیا ہے۔ آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا اِسْتَفْتَحُوْا سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ ۔تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کی انتہا پر ہوتی ہے کیونکہ اگر اوّل ہی ہو تو پھر خاتمہ ہو جاتا !!مکہ کی زندگی میںحضرت اَحدیت کے حضور گرنا اور چلّانا تھا۔ اور وہ اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ مگر آخر مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو کہ وہ جو شرارتوں میں سر گرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے، سب کے سب ہلاک ہوئے اورباقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ63، ایڈیشن 2018، قادیان)