اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-04-10

پوری کامیابی ،پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان د نیا میں آیا جو محمد کہلایا صلی اللہ علیہ وسلم کسی نبی کو یہ شوکت، یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا تو انسان وجد میں آکر اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکہہ اٹھتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔ قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریمؐ نے کیا کیا۔ ورنہ وہ کیا بات تھی جو آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الاحزاب:۵۷) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔ پوری کامیابی ،پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان د نیا میں آیا جو محمد کہلایا صلی اللہ علیہ وسلم۔ عادت اللہ اسی طرح پر ہے۔ زمانہ ترقی کرتا ہے۔ آخر وہ زمانہ آگیا جو خاتم النّبیین کا زمانہ تھا جو ایک ہی شخص تھا جس نے یہ کہا يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا(الاعراف:۱۵۹)۔ کہنے کو تو یہ چند لفظ ہیں اور ایک اندھا کہہ سکتا ہے کہ معمولی بات ہے مگر جو دل رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے اور جو کان رکھتا ہے وہ سنتا ہے جو آنکھیں رکھتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ یہ الفاظ معمولی الفاظ نہیں ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ معمولی لفظ تھے ،تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح علیہ السلام یا کسی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔ اصل یہی ہے جس کو یہ قوت، یہ منصب نہیں ملا وہ کیونکر کہہ سکتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کو یہ شوکت، یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریمؐ کو ملا۔ بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ تو وہ گوشت کھانے سے شیر نہ بن سکے گی۔ شیر کا بچہ ہی شیر ہو گا۔ پس یاد رکھو یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اور واقعی حقدار ایک تھا جو محمد کہلایا۔ یہ دادِ الٰہی ہے جس کے دل ودماغ میں چاہے یہ قوتیں رکھ دیتی ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقع کون ہے۔ ہر ایک کاکام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹)جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کلام نہیں نکل سکتا۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ59، ایڈیشن 2018، قادیان)