خدا تعالیٰ کا یہ قول ہے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَ یعنی اگریہ نبی ہمارے پر افترا کرتا تو ہم اس کو دہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر اس کی وہ رگ کاٹ دیتے جو جان کی رگ ہے یہ آیت اگرچہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے معنوں میں عموم ہے جیسا کہ تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ بظاہر اکثر امرو نہی کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہوتے ہیں لیکن اُن احکام میں دوسرے بھی شریک ہوتے ہیں یا وہ احکام دوسروں کے لئے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ یہ آیت فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًایعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اورایسی باتیں اُن سے نہ کر جن میں اُن کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔ اِس آیت کے مخاطب توآنحضرت ﷺ ہیں لیکن در اصل مرجع کلام اُمت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے والد اور والدہ آپ کی خورد سالی میں ہی فوت ہو چکے تھے اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بُزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے اور اسی کی طرف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔ وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۰ۭ یعنی تیرے ربّ نے چاہا ہے کہ تو فقط اُسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔ اِس آیت میں بُت پرستوں کو جو بُت کی پوجا کرتے ہیں سمجھایا گیا ہے کہ بُت کچھ چیز نہیں ہیں اور بُتوں کا تم پر کچھ احسان نہیں ہے۔ انہوں نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور تمہاری خورد سالی میں وہ تمہارے متکفل نہیں تھے اور اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی ربّ ہیں اورہر ایک شخص طبعًا یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو اُن کی خوردسالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ پس خدا کی ربوبیت کے بعد اُن کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
اس جملہ معترضہ کے بعد پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺکی نسبت جو فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پرکچھ افترا کرتا تو ہم اُس کو ہلاک کر دیتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺکی نسبت یہ غیرت اپنی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اگر مفتری ہوتے تو آپ کو ہلاک کردیتا مگر دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے اور دُوسرے خواہ کیسا ہی خدا پر افتراء کریں اور جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں اُن کی نسبت خدا کی غیرت جوش نہیں مارتی۔ یہ خیال جیسا کہ غیر معقول ہے، ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں کے بر خلاف بھی ہے اور اب تک توریت میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ جو ؔشخص خدا پر افتراکرے گا اورجھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے گا وہ ہلاک کیاجاوے گا۔ علاوہ اس کے قدیم سے علماء اسلام آیت لَـوْ تَقَوَّلَّ عَلَیْنَاکوعیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی سچائی کے لئے بطور دلیل پیش کرتے رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی بات میں عموم نہ ہو وہ دلیل کا کام نہیں دے سکتی۔ بھلا یہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اگر افترا کرتے تو ہلاک کئے جاتے اور تمام کام بگڑ جاتا لیکن اگر کوئی دوسرا افترا کرے تو خدا ناراض نہیں ہوتا بلکہ اس سے پیار کرتا ہے اور اُس کو آنحضرت ﷺ سے بھی زیادہ مہلت دیتا ہے اور اُس کی نصرت اور تائید کرتا ہے اِس کا نام تو دلیل نہیں رکھنا چاہئے بلکہ یہ تو ایک دعویٰ ہے کہ جو خود دلیل کا محتاج ہے۔ افسوس میری عداوت کیلئے اِن لوگوں کی کہاںتک نوبت پہنچ گئی کہ آنحضرت ﷺ کی سچائی کے نشانوں پر بھی حملے کرنے لگے۔ چونکہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ میرے اِس دعویٰ وحی اورالہام پر پچیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں جو آنحضرت ﷺکے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ وہ23 برس تھے اور یہ30سال کے قریب اور ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہے اسلئے یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنےوالا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افترا سے تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتاہے اور خدا اس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ اَے بیباک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف و کرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ اِس مُدت درازمیں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھا یا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا۔ اگر اس مُدت اور اس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ بموجب آیتلَـوْ تَقَوَّلَّ عَلَیْنَا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور تم اِس سے پوچھے جائوگے۔ (حقیقۃ الوحی رُوحانی خزائن جلد 22 صفحہ 213)
…٭…٭…٭…