اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2025-02-27

میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں ،طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے نزول کے دن ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
رَمَض سورج کی تپش کو کہتے ہیں ۔رمضان میں چونکہ انسان ا کل وشرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے،دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے،روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینے میں آیا،اس لئے رمضان کہلایا،میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ عرب کے لئے یہ خصو صیت نہیں ہو سکتی۔روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق وشوق اور حرارتِ دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیںجس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔ (ملفوظات جلد1 صفحہ 194، مطبوعہ قادیان 2018)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
رمضان کا مہینہ مبارک مہینہ ہے، دعا ؤں کا مہینہ ہے۔میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں۔ طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔ یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے نزول کے دن ہیں۔ (ملفوظات جلد2 صفحہ 83، مطبوعہ قادیان 2018)