اعلیٰ درجہ کا نور
’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۱۶۰)
جس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا
’’میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ؐہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اُس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا ۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا ۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی ۔ اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی ۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں ۔ ‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۵)
اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی
’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ ﷺ ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔ (سراج منیر صفحہ ۷۲)
اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا
’’جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہوکر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ان سے ہم کیونکر صلح کریں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کرسکتے ہیں ، لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کرسکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے ہم ایساکام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے ۔‘‘
(پیغام صلح صفحہ ۳۰)
اے میرے آسمانی آقا! اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش
’’مخالفین نے ہمارے رسول ﷺ کے خلاف بیشمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعہ ایک خلق کثیر کا گمراہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھا نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک ﷺ کی شان میں کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشرﷺ کی ذاتِ والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کررکھا ہے خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کردئیے جائیں اور خود میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کردیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لیے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں ۔ پس اے میرے آسمانی آقا تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلاء عظیم سے نجات بخش ۔ ‘‘ (ترجمہ عربی عبارت ، آئینہ کمالات اسلام ، صفحہ ۱۵)
تمام آدم زادوں کے لیے ایک ہی رسول اور ایک ہی شفیع
’’نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن ، اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے ۔ اور کسی کے لیے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ۔ مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لیے زندہ ہے ۔ ‘‘ (کشتی نوح ، صفحہ ۱۳)
ہمیشہ کیلئے جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا نبی
’’اگر کسی نبی کی فضیلت اس کے اُن کاموں سے ثابت ہوسکتی ہے جن سے بنی نوع کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو! اُٹھو اور گواہی دو کہ اس صفت میں محمد ﷺ کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں .... اندھے مخلوق پرستوں نے اس بزرگ رسول ؐ کو شناخت نہیں کیا جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے۔ لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے ۔ کہ یہ پاک رسولؐ شناخت کیا جائے چاہو تو میری بات لکھ رکھو ۔۔۔ اے سننے والو! سنو! اور سوچنے والو! سوچو اور یاد رکھو کہ حق ظاہر ہوگا اور وہ جو سچا نور ہے چمکے گا ۔‘‘
(تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۰، ۱۱)
نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم
’’ میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گذر چکے تھے ۔ سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ﷺ نے کی ۔ ہر گز نہ کرسکتے ۔ ان میں وہ دل وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبیؐ کو ملی تھی ۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذاللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراء کریگا ۔ میں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں ، لیکن نبی کریم ؐ کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میرے رگ و ریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے کہ اس کو نکال دوں۔ بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے ہمارے نبی کریم صلعم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہوسکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء۔‘‘ (ملفوظات جلد ۲ ، صفحہ ۱۷۴)
سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اَجلیٰ و اَصفیٰ نبی
’’چونکہ آنحضرت ﷺ اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا و صدق و صفا و توکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلی و اصفی تھے اس لیے خدائے جل شانہٗ نے ان کو عطر کمالات ِخاصّہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ و دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفاتِ الٰہیہ کے دکھلانے کے لیے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو ۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ صفحہ ۲۳ حاشیہ ، روحانی خزائن جلد ۲)
مجدّدِ اعظم
’’ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کے لیے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے ۔ اس فخر میں ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی ۔ جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اُتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اسقدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی یہ کامیابی اور اسقدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت ﷺ کے نصیب نہیں ہوئی ۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۴)
ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں
’’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمّی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔ اللّٰھم صل وسلم و بارک علیہ و اٰلہٖ بعد دھمّہ و غمّہ و حزنہٖ لٰھذہ الامّة و انزل علیہ انوار رحمتک الی الابد۔‘‘ (برکات الدعا ، صفحہ ۱۰، ۱۱)