اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم آیا اور بت پرستوں سے اس نے نجات دی۔ یہی وہ راز ہے کہ یہ درجہ صرف، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان احسانوں کے معاوضہ میں ملا کہ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الاحزاب:۵۷)……
اللہ جَلّ شَانُہٗ نے جب احسان کرنا چاہا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ آپ کا نام محمد تھا جس کے معنی ہیں نہایت ہی تعریف کیا گیا۔ جو باب تفعیل سے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اسی قدر قابل تعریف ٹھہرتا ہے جس قدر کام کرتا ہے۔ پہلے نبی خاص قوموں کے لئے آتے تھے۔ اور ایک نقص یہ تھا کہ ایک عظیم الشان اصلاح کی ضرورت نہ ہوتی تھی ……
جہاں تک غور کرتے جاؤ یہ پتہ ملے گا کہ کوئی نبی اس مبارک نام کا مستحق نہ تھا۔ یہاں تککہ ہمارے نبی کریمؐکا زمانہ آگیا وہ ایک خارستان تھا جس میںنبی کریم نے قدم رکھا اور ظلمت کی انتہا ہو چکی تھی۔ میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے۔ سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہرگز نہ کر سکتے۔ ان میں وہ دل، وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبیؐکو ملی تھی۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سُوءِ ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔ میں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزوِ سمجھتا ہوں لیکن نبی کریمؐ کی فضیلت کل انبیاء علیہم السلام پر میرے ایمان کا جزوِ اعظم اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔ یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔ بد نصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ56، ایڈیشن 2018، قادیان)