ایمان کے نشانات
مگر ہر چیز کے لئے نشان ضرور ہوتے ہیں۔ جب تک اس میں وہ نشان نہ پائے جائیں، وہ معتبر نہیں ہو سکتی۔ دیکھو دواؤں کی طبیب شناخت کر لیتا ہے۔ بنفشہ، خِیَار شَنبـر، تُربد میں اگر وہ صفات نہ پائے جائیں جو ایک بڑے تجربہ کے بعد ان میں متحقق ہوئے ہیں تو طبیب ان کو رَدی کی طرح پھینک دیتا ہے۔ اسی طرح پر ایمان کے نشانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بار بار اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ جب ایمان انسان کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال تقدس کبریائی قدرت اور سب سے بڑھ کر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حقیقی مفہوم داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر سکونت اختیار کرتا ہے اور شیطانی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور گناہ کی فطرت مرجاتی ہے اس وقت ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے اور وہ روحانی زندگی ہوتی ہے یا یہ کہو کہ آسمانی پیدائش کا پہلا دن وہ ہوتا ہے جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے اور روحانی زندگی کا تولّد ہوتا ہے۔ جیسےبچے کا تولّد ہوتا ہے۔
اسلام کا کامل خدا
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں اسی تولّد کی طرف ایما فرمایا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (الفاتـحۃ:۲تا۴) یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں۔ یعنی وہ خدا جس میں تمام محامد پائے جاتے ہیں۔ کوئی خوبی سوچ اورخیال میں نہیں آسکتی۔ جو اللہ تعالیٰ میں نہ پائی جاتی ہو،بلکہ انسان کبھی بھی ان محامد اور خوبیوں کو جو اللہ کریم میں پائی جاتی ہیں کبھی بھی شمار نہیں کر سکتا۔ جو خدا اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہی کامل اور سچا خدا ہے اور اسی لئے قرآن کو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے شروع فرمایا ہے دوسری قوموں اور کتابوں نے جس خدا کی طرف دنیا کو دعوت کی ہے وہ کوئی نہ کوئی عیب اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ نہیں ،کسی کے کان نہیں،کوئی گونگا ہے ، کوئی کچھ،غرض کوئی نہ کوئی عیب اور روگ موجود ہے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 54، ایڈیشن 2018، قادیان)