بیعت کے مغز کو اختیار کرو
یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔ یہ تو صرف پوست ہے۔ مغز تو اس کے اندر ہے۔ اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔ چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔ مغز ہی لیا جاتا ہے۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے اور نہ سفیدی جو کسی کام نہیں آسکتے اور ردی کی طرح پھینک دئیے جاتے ہیں۔ ہاںایک دو منٹ تک کسی بچہ کے کھیل کا ذریعہ ہو تو ہو۔
اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ ان دونوں باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا تو اسے ڈرنا چاہیے کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس ہوائی انڈے کی طرح ذرا سی چوٹ سے چکنا چور ہو کر پھینک دیا جاوے گا۔
اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟جب تک مغز پیدا نہ ہو۔ ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی ، اسلام کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔ یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں ،موت کس وقت آجاوے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ مرنا ضرور ہے۔ پس نرے دعویٰ پر ہرگز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ۔ وہ ہرگز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔ جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کر ے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے۔ وہ انسانیت کے اصل مقصد کو پا نہیں سکتا۔
انسان کی حقیقت
انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں۔ ایک اللہ تعالیٰ سے، دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے ۔جب یہ دونوں انس اس میں پیدا ہو جاویں اس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الْاَلْبَابِ کہلاتا ہے۔ جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہزار دعویٰ کرو اور دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔
اسوۂ انبیاء علیہم السلام
پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہوتے ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الٰہی لکھاجاتا مگر اس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور ان کی معرفت کلامِ الٰہی نازل فرمایا اس میں سِرّیہ تھا کہ تا انسان جلوۂ الوہیت کو دیکھے جو پیغمبروں میں ہو کرظاہر ہوتا ہے۔
پیغمبر الوہیت کے مظہراور خدا نما ہوتے ہیں۔ پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے جو پیغمبروں کا مظہر بنے۔ صحابہؓ کرام نے اس راز کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھوئے گئے کہ ان کے وجود میں اور کچھ باقی رہا ہی نہیں تھا۔ جو کوئی ان کو دیکھتا تھا ان کو محویت کے عالم میں پاتا تھا۔ پس یاد رکھو کہ اس زمانہ میں بھی جب تک وہ محویت اور وہ اطاعت میں گمشدگی پیدا نہ ہو گی جو صحابہؓ کرام میں پیدا ہوئی تھی۔ مریدوں، معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہو گا۔ یہ بات اچھی طرح پر اپنے ذہن نشین کر لوکہ جب تک یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں اس وقت تک شیطانی حکومت کا عمل و دخل موجود ہے۔
شیطان جھوٹ ،ظلم،جذبات،خون، طُولِ اَمل ، رِیا اور تکبر کی طرف بلاتاہے۔ اور دعوت کرتا ہے۔ اس کے بالمقابل اخلاقِ فاضلہ، صبر، محویت،فنا فی اللہ، اخلاص، ایمان ، فلاح یہ اللہ تعالیٰ کی دعوتیں ہیں۔ انسان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے۔ پھر جس کی فطرت نیک ہے اور سعادت کا مادہ اس میں رکھا ہوا ہے۔ وہ شیطان کی ہزاروں دعوتوں اور جذ بات کے ہوتے ہوئے بھی اس فطرت رشید سعادت اور سلامت روی کے مادہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی ہی طرف دوڑتا ہے اور خدا ہی میں اپنی راحت، تسلی اور اطمینان کو پاتا ہے۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ53، ایڈیشن 2018، قادیان)