اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-11-14

ترقی کی ایک ہی راہ ہے کہ خدا کو پہچانیںاور اس پر زندہ ایمان پیدا کریں

اسلام کسی کو سُست نہیں بناتا۔ اپنی تجارتوںاور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں۔ مگر میں یہ نہیں پسند کرتا کہ خدا کے لئے کوئی وقت بھی ان کا خالی نہ ہو۔ ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف و خشیت کو اس وقت بھی مد نظر رکھیں،تاکہ وہ تجارت بھی ان کی عبادت کا رنگ اختیار کرلے۔ نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ ہر معاملہ میں کوئی ہو ، دین کو مقدم کریں۔ دنیا مقصود بالذّات نہ ہو، اصل مقصود دین ہو۔ پھر دنیا کے کام بھی دین ہی کے ہوں گے۔ صحابہؓ کرام کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔ لڑائی اور تلوار کا وقت ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ محض اس کے تصور سے ہی انسان گھبرا اٹھتا ہے۔ وہ وقت جب کہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے، ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے۔ نمازوں کو نہیں چھوڑا۔ دعا ؤں سے کام لیا۔ اب یہ بد قسمتی ہے کہ یوں تو ہر طرح سے زور لگاتے ہیں۔ بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں۔ جلسے کرتے ہیں کہ مسلمان ترقی کریں، مگر خدا سے ایسے غافل ہوئے ہیں کہ بھول کر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ پھر ایسی حالت میںکیا امید ہو سکتی ہے کہ ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں جب کہ وہ سب کے سب دنیا ہی کے لئے ہیں۔ یاد رکھو جب تک لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ دل و جگر میں سرایت نہ کرے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت نہ ہو کبھی ترقی نہ ہو گی۔ اگر تم مغربی قوموں کا نمونہ پیش کرو کہ وہ ترقیاں کر رہے ہیں، ان کے لئے اور معاملہ ہے تم کو کتاب دی گئی ہے۔ تم پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ ان کے لئے الگ معاملہ اور مواخذہ کا دن ہے۔ تم اگر کتاب اللہ کو چھوڑو گے تو تمہارے لئے اسی دنیا میںجہنم موجود ہے۔
ایسی حالت میں کہ قریباً ہر شہرمیں مسلمانوں کی بہتری کے لئے انجمنیں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں، لیکن کسی ہمدردِ اسلام کے منہ سے یہ نہیں نکلتاکہ قرآن کو اپنا امام بناؤ۔ اس پر عمل کرو۔ اگر کہتے ہیں تو بس یہی کہ انگریزی پڑھو،کالج بناؤ، بیرسٹربنو۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا پر ایمان نہیں رہا۔ حاذق طبیب بھی دس دن کے بعد اگر دوا فائدہ نہ کرے تو اپنے علاج سے رجوع کر لیتے ہیں۔ یہاں ناکامی پر ناکامی ہوتی جاتی ہے اور اس سے رجوع نہیں کرتے۔ اگر خدا نہیں ہے تو اس کو چھوڑ کر بے شک ترقی کر لیں گے۔ لیکن جب کہ خدا ہے اور ضرور ہے، پھر اس کو چھوڑ کر کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ اس کی بے عزتی کر کے، اس کی کتاب کی بے ادبی کر کے چاہتے ہیں کہ کامیاب ہوں اور قوم بن جاوے۔ کبھی نہیں۔
ہماری رائے تو یہی ہے جس کو آنکھیں دیکھتی ہیں، ترقی کی ایک ہی راہ ہے کہ خدا کو پہچانیں اور اس پر زندہ ایمان پیدا کریں۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ44، ایڈیشن 2018، قادیان)