اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-11-07

کامیاب وہی لوگ ہونگے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں،قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے

اسلام جو یہ ایمانی قوت لے کر آیا تھا،بہت ضعیف ہو گیا ہے اور عام طور پر مسلمانوں نے محسوس کر لیا ہے کہ وہ کمزور ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ آئے دن جلسے اور مجلسیں ہوتی رہتی ہیں اور نت نئی انجمنیں بنتی جاتی ہیں ،جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کی حمایت اور امداد کے لئے کام کرتی ہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وہ ان مجلسوں میں قوم قوم تو پکارتے ہیں ،قومی ترقی، قومی ترقی کے گیت گاتے ہیں لیکن کوئی مجھ کو یہ بتائے کہ کیا پہلے زمانہ میں جب قوم بنی تھی،وہ یورپ کے اتباع سے بنی تھی؟کیا مغربی قوموں کے نقش قدم پر چل کر انہوں نے ساری ترقیاں کی تھیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ہاں اسی طرح ترقی کی تھی تو بے شک گناہ ہوگا ،اگر ہم اہل یورپ کے نقش قدم پر نہ چلیں۔
لیکن اگر ثابت نہ ہو اور ہر گزثابت نہ ہو گا، پھر کس قدر ظلم ہے کہ اسلام کے اصولوں کو چھوڑ کر، قرآن کو چھوڑ کر جس نے ایک وحشی دنیا کو انسان اور انسان سے باخدا انسان بنایا ایک دنیا پرست قوم کی پیروی کی جائے۔ جو لوگ اسلام کی بہتری اور زندگی مغربی دنیا کو قبلہ بنا کر چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔
قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔ صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا، تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے پورے ہو گئے ہیں۔ ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر انہوں نے وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصہ میں نہ آیا تھا۔ وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے اور ان کی ہی اطاعت اور پیروی میں دن رات کوشاں تھے۔ ان لوگوں کی پیروی کسی رسم و رواج تک میں بھی نہ کرتے تھے،جن کو کفار کہتے تھے۔ جب تک اسلام اس حالت میں رہا وہ زمانہ اقبال اور عروج کا رہا۔ اس میں سر یہ تھا۔ ع خدا داری چہ غم داری
مسلمانوں کی فتوحات اور کامیابیوں کی کلید بھی ایمان تھا۔ صلاح الدین کے مقابلہ پر کس قدر ہجوم ہوا تھالیکن آخر اس پر کوئی قابو نہ پا سکا۔ اس کی نیت اسلام کی خدمت تھی۔ غرض ایک مدت تک ایسا ہی رہا۔ جب بادشاہوں نے فسق وفجور اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ کا غضب ٹوٹ پڑا اور رفتہ رفتہ ایسا زوال آیا جس کواب تم دیکھ رہے ہو۔ اب اس مرض کی جو تشخیص کی جاتی ہے،ہم اس کے مخالف ہیں۔ ہمارے نزدیک اس تشخیص پر جو علاج کیا جائے گا،وہ زیادہ خطر ناک اور مضر ثابت ہو گا۔ جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن شریف کی طرف نہ ہو گا،ان میں وہ ایمان پیدا نہ ہو گا۔ یہ تندرست نہ ہوں گے۔ عزت اور عروج اسی راہ سے آئے گا جس راہ سے پہلے آیا۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ44، ایڈیشن 2018، قادیان)