اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




کلام امام الزمان

2024-10-10

بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے جس میں اس قدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات لغو اور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کر دیںتو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے

نماز کا پڑھنا اور وضو کا کرنا طبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اطباء کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے اور یہ نزول الماءکا مقدمہ ہے۔ اور بہت سی بیماریاںاس سے پیدا ہوتی ہیں۔ پھر بتلاؤ کہ و ضو کرتے ہوئے کیوں موت آتی ہے۔ بظاہر کیسی عمدہ بات ہے۔ منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے۔ مسواک کرنے سے منہ کی بد بو دور ہوتی ہے۔ دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چبانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے۔ پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ناک میں کوئی بد بو داخل ہو تو دماغ کو پرا گندہ کر دیتی ہے۔ اب بتلاؤ کہ اس میں برائی کیا ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے۔ اور اس کو اپنے مطالب عرض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دعا کرنے کے لئے فرصت ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ نماز میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اگرچہ بعض نمازیں تو پندرہ منٹ سے بھی کم میں ادا ہو جاتی ہیں۔ پھر بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے۔ جس میں اس قدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات لغو اور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کر دیںتو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے۔ اگر قوی ایمان ہوتا ،قوی تو ایک طرف اگر ایمان ہی ہوتا ،تو یہ حالت کیوں ہوتی اور یہاں تک نوبت کیوں پہنچتی۔
باوجود اس کے کہ اس قدر ایمانی حالت گر گئی ہے، اس پر بھی اگر کوئی اس کمزوری کو محسوس کرا کے اس کا علاج کرنا چاہے اور وہ راہ بتائے جس پر چل کر انسان خدا سے ایک قوت اور شجاعت پاتا ہے ،تو اس کو کافر اور دجال کہا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ ایمان کا ایک نتیجہ یقین نہیں کر سکتے تو کم از کم فرض ہی کر لیں۔ فرض پر بھی تو بڑے بڑے نتائج مترتب ہو جاتے ہیں۔ دیکھو!اقلیدس کا سارا مدار فرض ہی پر ہے،اس سے بھی کس قدر فوائد پہنچتے ہیں۔ بڑے بڑے علوم کی بناء اولاً فرض پر ہی ہوتی ہے۔ پس اگر ایمان کو بھی فرض کر کے ہی اختیار کر لیتے تب بھی یقین ہے کہ وہ خالی ہاتھ نہ رہتے مگر یہاں تو اب یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ سرے ہی سے اس کو اک بے معنی شے سمجھتے ہیں۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 41، ایڈیشن 2018، قادیان)