یاد رکھو کہ مخالفوں پر غالب آنے کے واسطے تقویٰ ضروری ہے اور اس کے لئے اس زمانہ میں بہتر طریق یہی ہے کہ ہمارے پاس رہیں۔ سب سے پہلے مولوی نور الدین صاحب نے اس راز کو سمجھا ہے اور وہ محض خدا کی رضا مندی کے واسطے اور دین کو حاصل کرنے کے واسطے یہاں آکر جنگل میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بہت بڑی قربانی کی ہے۔ اپنی جائیدادیں اور املاک چھوڑیں اور ایک جنگل کی رہائش اختیار کی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولوی صاحب جیسی قابلیت اور لیاقت کا آدمی اگر لاہور یا امرتسر میں رہتا تو بہت بڑا دنیوی فائدہ اٹھا سکتا تھا اور کئی بار لاہور اور امرتسر والوں نے چاہا بھی کہ وہ یہاں آکر رہیں مگر انہوں نے کبھی یہاں کے رہنے پر دوسری جگہ کی آمدنی اور فوائد کو ترجیح نہیں دی اللہ تعالیٰ ان کو اس کی بہتر جز ادے۔ اس قسم کے لوگ ہوں اور ایسی روح اور یقین یہاں لے کر آئیں۔
پھر میں دیکھتا ہوں کہ بعض احباب ہمارے ہر سال دنیا سے رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ یہ کس کو معلوم ہے کہ اگلے سال کون ہوگا اور کس کو طلبی کا حکم آجائے گا پس اس سے پیشتر کہ انسان دنیا سے رخصت ہو اس کو ضروری ہے کہ وہ خدا سے صلح کرلے اور یہ سچی بات ہے کہ کسی شخص کو فیض الٰہی نہیں پہنچتا جب تک کہ اس کو خدا کے فرستادہ کے ساتھ سچی محبت نہ ہو اور اس محبت کا ثبوت اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت اختیار کرے۔
صوفی جو یہ کہتے ہیں کہ مرید کو فائدہ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے مرشد کو سب سے اچھا نہ سمجھے۔ میرے نزدیک یہ بات بیشک ضروری ہے لیکن وہ جو یہ کہتے ہیں کہ مرشد کو لازم ہے کہ وہ ہر وقت عبوس رہے، اس کو میں صحیح نہیں سمجھتا۔ انسان اپنے اخلاق کو کیوںدور کرے۔ منہاج نبوت کا طریق نہ چھوڑے۔ ان کو بہت بڑے ظرف اور دل کا آدمی ہونا چاہیے اور وہ جو خدا کی طرف سے منہاج نبوت پر آتے ہیں اخلاق فاضلہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ میرا یہی مذہب ہے انبیاء علیہم السلام کی مدح کے خلاف زبان چلانا میرے نزدیک کفر ہے۔
پس یہ بڑی عظیم الشان بات ہے کہ انسان اخلاق کو حاصل کرے اور تقویٰ اختیار کرے۔ اس کے لئے صادقوں کی صحبت کی ضرورت ہے اس لئے میرے پاس رہنے کی فکر کرو۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ38، ایڈیشن 2018، قادیان)